Tazkirul Quran (Urdu) · The Pen (Al-Qalam)

Tazkirul Quran, Qur’an 68:42–45

The Pen (Al-Qalam)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قیامت میں جب خداعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں ۔

’’سجدہ‘‘ کرنے سے محروم ہونا حسرت کے وسیع تجربہ کی ایک نمائندہ مثال ہے جس سے قیامت کے دن منکر انسان دوچار ہوگا(البقرہ، 2:167)۔ اس دن اللہ رب العالمین اپنے تمام جلال و کمال کے ساتھ انسان کے سامنے ظاہر ہوجائے گا۔ اس وقت آدمی خدا کو دیکھنا چاہے گا، مگر منکر انسان خدا کو دیکھ نہ سکے گا۔ کیوں کہ وہ دنیا میں خدا کو دیکھنے کے لیے اندھا بنا رہا، وہ خدا کی حمد کرنا چاہے گا، مگر وہ اس کی حمد نہ کرسکے گا۔ کیوں کہ دنیا میں خدا کی حمد کرنے سے اس کی زبان گونگی ہوگئی تھی، وہ خدا کی باتوں کو سننا چاہے گا، مگر وہ اس کو سن نہ سکے گا۔ کیوں کہ دنیا میں خدا کی باتوں کو سننے کےلیے اس نے اپنے کان بند کر لیے تھے۔ وہ چاہے گا کہ اپنے رب کی عظمت کے اعتراف میں اس کے آگے جھک جائے، مگر وہ اس کے آگے جھک نہ سکے گا۔ کیوں کہ دنیا میں وہ اس کے آگے جھکنے کو تیار نہ ہوسکا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page