Tazkirul Quran (Urdu) · The Jinn (Al-Jinn)

Tazkirul Quran, Qur’an 72:1–7

The Jinn (Al-Jinn)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں ۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں ۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں ۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں ۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں ۔

سچا رہنما کون ہے، امت ِ موسیٰ کے حوالے سے قرآن میں اس کا جواب ان الفاظ میں دیاگیا ہے وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَىِٕمَّةً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ (32:24)۔ اور ہم نے ان میں امام بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، جب کہ انھوں نے صبر کیا ،اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں ، سچے رہنما وہ لوگ ہیں ، جو سادگی ، سنسیرٹی (sincerity)، ماڈسٹی (modesty)اور انسانی خیرخواہی اور امانت داری کی صفت کے حامل ہوں، جو اپنی صابرانہ روش کی بنا پر مثبت سوچ کے تحت رہنمائی کے لیے اٹھیں۔وہ کنڈیشنڈ ذہن سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو دیکھیں اور جو درست راستہ ہو اس کی طرف رہنمائی کریں ۔ یہی لوگ اللہ کے نزدیک درست رہنما ہیں ، اسی قسم کے رہنماؤں کو اللہ کی طرف سے قبولیت (acceptance)حاصل ہوتی ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page