Tazkirul Quran (Urdu) · Man (Al-Insan)

Tazkirul Quran, Qur’an 76:17–22

Man (Al-Insan)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہ برتر جنت کا بیان ہے جہاں زیادہ برتر ایمان کا ثبوت دینے والے لوگ بسائے جائیں گے۔ اس جنت کے باشندوں کو شاہانہ نعمتیں حاصل ہوں گی۔ وہ کون لوگ ہیں جن کی کوششیں آخرت میں سعی مشکور کا درجہ حاصل کریں گی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ہولناکیوں کا اتنا شدید احساس رکھتے ہوں کہ وہ ان کے اوپر ایک قسم کا آسمانی محاسب بن کر چھا جائے ۔حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کل کی دنیا کے لیےجینا، دکھائی دینے والے ’’جنت اور جہنم‘‘ کو نظرانداز کرکے نہ دکھائی دینے والے جنت وجہنم کے لیے سرگرم ہونا ایک بے حدمشکل کام ہے۔ اس میں ہر وقت آدمی کے صبر کا امتحان ہے ۔ اس راہ میں کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرناپڑتاہے۔ کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خو د سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کرلیناپڑتاہے ۔ کہیں اپنی بے حرمتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کوچھوڑ کر کم پر قانع ہوناپڑتا ہے۔ کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاؤں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کرگم نامی کے طریقے کو اختیارکرناپڑتا ہے۔ غرض جنت کی طرف سفر کا سارا معاملہ صبروبرداشت کا معاملہ ہے ۔ جو اپنے آپ کو خدا کی خاطر دبانے اور کچلنے کے لیے تیار نہ ہو وہ کبھی اس راہ کو طے نہیں کر سکتا قَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلْعِلْمَ ‌وَيْلَكُمْ ثَوَابُ ٱللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا وَلَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلصَّٰبِرُونَ(28:80)۔ جن لوگوں کو علم ملا تھا انھوں نے کہا، تمہارا برا ہو، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اور یہ انھیں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page