Tazkirul Quran (Urdu) · Man (Al-Insan)

Tazkirul Quran, Qur’an 76:4–16

Man (Al-Insan)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

دنیا میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا، اور پھر اس کو راہ دکھا دی گئی، ناشکری کی راہ اور شکر گزار زندگی کی راہ۔ اب یہ انسان کے اپنے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کون سی راہ اختیار کرتا ہے۔ جو شخص ناشکری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ اور جنت کی نعمتیں ان کو ملیں گی ، جو صبر اور شکر کی روش پر قائم رہیں ۔ ان کا حال یہ ہو جائے گویا کہ وہ موت کے دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور اس کے زیراثر سارا کام کر رہے ہیں ۔ وہ جب کوئی عہد کریں ، خواہ ایمان کا عہد ہویا قول و قرار کا عہد ، تو وہ اس کو اس طرح پورا کریں جیسے وہ بے پناہ یقین کے ساتھ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر انھوں نے اس کو پورا نہ کیا توجہنم کی آگ انھیں پکڑے گی ۔ ان کا ایمان باللہ ان پر جن باتوں کو لازم کر رہا ہے اور ان کا عہد ان کو جن چیزوں کا پابند بنارہا ہے، ان کو وہ اس طرح پورا کریں جیسے وہ ایک ایسی سرحد پر کھڑے ہوئے ہیں جہاں ان کے لیے دو میں سے صرف ایک چیز کے انتخاب کا سوال ہے — قول و قرار کے تقاضوں کو پوراکرنا یا جانتے بوجھتے اپنے آپ کو جہنم کے الاؤ میں گرا دینا ۔ آخرت کے احساس ہی کے تحت ان کے اندر جو دوسری خصوصیت پیدا ہوتی ہے وہ بندوں کے ساتھ مہربانی ہے۔ مثلاً وہ اپنے لیے اپنے رب سے مہربانی چاہتے ہیں اس لیے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ مہربانی کرتے ہیں ۔ وہ بھوکے کو کھلاتے ہیں تاکہ خدا ان کو کھلائے ، وہ کمزوروں کو سہارا دیتے ہیں تاکہ خدا ان کو سہارا دے ۔ وہ انسانوں کی طرف سے ڈالی ہوئی تکلیفوں کو معاف کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی غلطیوں کو معاف کر دے ۔ یہ کام وہ بدلہ اورانسانوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے نہیں کرتے ۔اس کا محرک تمام تر یہ ہوتا ہے کہ آخرت کے دن جب وہ خدا کے سامنے تمام کمزوروں سے زیادہ کمز در حالت میں کھڑے ہوں ، اس وقت ان کا خدا ان کو بے یار و مدگار نہ چھوڑے بلکہ ان کی مدد فرمائے۔ دنیاکی زندگی میں کسی کے ساتھ اچھا سلوک ان کے لیے دراصل ایک عملی دعا ہوتی ہے ۔

دنیا کی زندگی در اصل صبر کا امتحان ہے۔ صبر کی ایک قسم وہ ہے جو باہر کی دنیا کے خلاف ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی ماحول کی رکاوٹوں کا خاموش مقابلہ کرتے ہوئے اپنے دینی سفر کو جاری رکھتا ہے ۔ مگر سب سے بڑا صبر وہ ہے جو خود اپنے خلاف پیش آتا ہے ۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آنے کی وجہ سے اپنے بھائی کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ، ایسے موقع پرمنفی جذبات کی روش سے اپنے کو روکناپڑتا ہے ۔ کسی کی ترقی اور مقبولیت کو دیکھ کر اس کے خلاف حسد جاگ اٹھتا ہے ۔ اس وقت دشمن جیسی بے رحمانہ نظر سے اپنے دل کوٹٹولنا پڑتاہے تاکہ حسد اور رقابت کے بیج کو نکال پھینکا جائے ۔ کبھی آدمی ایک شخص کو اچھا سمجھتا ہے حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا نیازمندانہ انداز ہوتا ہے اورکبھی ایک شخص کو برا سمجھتا ہے حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا تنقید و احتساب کا مزاج ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر اپنے آپ کو کھینچ کر ایسے مقام پر لے جانا پڑتا ہے جہاں وہ تعریف وتنقید سے بلند ہو کر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر سکے۔ دوسروں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کے بغیر کوئی شخص دین دار نہیں بنتا اور انسان کا خیرخواہی پر قائم ہو نا صبر کے بغیر ممکن نہیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page