Tazkirul Quran, Qur’an 76:23–31
Man (Al-Insan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
خدا سے گہرا تعلق اورصبر، یہ دونوں دعوت کی لازمی شرائط ہیں ۔ جہاں یہ دونوں چیزیں نہ ہوں، وہاں دعوت بھی یقینی طور پر نہیں ہوگی۔ صبر داعی کا اخلاق ہے۔ صبر ہی کے ذریعہ وہ حالات پیدا ہوسکتے ہیں جب کہ کوئی شخص دعوتی مواقع کو استعمال کرسکے۔ جو آدمی اللہ کے لیے نا خوشگوار باتوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ دنیا میں داعی کا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔
حق کی دعوت کو نہ ماننے کے دو خاص سبب ہوتے ہیں ۔ یا تو آدمی کے سامنے دنیا کا مفاد ہوتا ہے، اور مفاد سے محرومی کا اندیشہ اس کو حق کی طرف بڑھنے نہیں دیتا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو اور اس کا تکبر اس میں مانع بن جائے کہ وہ اپنے سے باہر کسی کی بڑائی کو تسلیم کرے۔ یہ دونوں قسم کے لوگ دعوتِ حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں ۔ مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ ان کا لحاظ کیے بغیر اپنا کام صبر کے ساتھ جاری رکھے۔
حب عاجلہ (جلدی ملنے والی چیز کی چاہت) کا مزاج پہلے بھی انسان کے اندر تھا، مگر اب وہ اتنا زیادہ عام ہوچکا ہے کہ شاید اس میں کوئی استثنا باقی نہیں رہا۔ اعلان یا اعلان کے بغیر ہر ایک کا نشانہ یہ ہے کہ ابھی اور اسی وقت (right here, right now) ۔ اس نظریہ کے ماننے والوں کا کہنا یہ ہے کہ اگر اب نہیں تو کب
If not now, when?
جولوگ ایسا کہتے ہیں ، وہ یقیناً سوچے بغیر ایسا کہہ رہے ہیں ۔ کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سے اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آج حاصل کر لو، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج بھی کیوں ہمارا مطلوب حاصل نہیں ہوتا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان نے یہ چاہا کہ وہ اس دنیا میں اپنی خواہش (desire) کو پورا کرے، مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ ہر آدمی اپنی خواہش کوپورا کیے بغیر اس دنیا سے چلا گیا۔ اِس المیہ کا سبب صرف ایک ہے — فانی دنیا میں اُس چیز کو پانے کی کوشش کرنا جو صرف آخرت کی ابدی دنیا میں ملنے والی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی شروع کرنے سے پہلے خالق کے تخلیقی نقشے کو جانے۔ اِس دنیا میں حقیقی کامیابی صرف اُس انسان کے لیے مقدر ہے جو خالق کے نقشے کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔