Tazkirul Quran, Qur’an 76:1–3
Man (Al-Insan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ اس وقت ساری دنیا میں کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ رحم مادر میں انسان کا آغاز ایک مخلوط نطفہ سے ہوتا ہے۔ یہ صرف بیسویں صدی کی بات ہے کہ انسان نے یہ جانا کہ انسان اور (حیوان) کا ابتدائی نطفہ دو اجزاء سے مل کر بنتا ہے۔ ایک، عورت کا بیضہ (Ovum) اور دوسرے، مرد کا نطفہ (Sperm)۔ یہ دونوں خور دبینی اجزاء جب باہم مل جاتے ہیں ، اس وقت رحم مادر میں وہ چیز بننا شروع ہوتی ہے، جو بالآخر انسان کی صورت اختیار کرتی ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے قرآن میں نطفہ امشاج (مخلوط نطفہ) کا لفظ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔
قرآن میں اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں ۔ یہ استثنائی مثالیں واضح طور پر قرآن کو خدا کی کتاب ثابت کرتی ہیں ۔ اور جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے تو اس کے بعد قرآن کا ہر بیان مجرد قرآن کا بیان ہونے کی بنیاد پر درست ماننا پڑے گا۔
اللہ نے انسان کو زمین پر آزادمخلوق کی حیثیت سے آباد کیا ہے۔ یہ آزادانہ حیثیت نہ فرشتوں کو حاصل ہے، اور نہ سورج اور چاند کو ۔ اور پھر اس کو راہ دکھادی گئی— بے اعترافی (ناشکری )کی راہ اور اعتراف (شکرگزاری)کی راہ ۔اعتراف ایک ملکوتی مزاج ہے، اور بے اعترافی ایک شیطانی مزاج۔ اعتراف سے آدمی کے اندر تواضع (modesty) کا مزاج پیدا ہوتا ہے، اور بے اعترافی سے اِس کے برعکس غیر متواضع مزاج پیدا ہوتا ہے۔ آدمی ہر لمحہ اِن دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک رویہ اختیار کرنے سے وہ متواضع انسان بن جاتا ہے، جو کسی انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اور دوسرا رویہ اختیار کرنے سے وہ ایک غیر متواضع انسان بن جاتا ہے، جوکسی انسان کے لیے سب سے بُری صفت ہے۔
اس کا مقصد یہ تھاکہ اللہ کا مطلوب صرف ایک ہے، اور وہ ہے پوری انسانی تاریخ سے صالح افراد کا انتخاب۔ وہ افراد جو اپنے ذہن کو استعمال کریں ، اور پھر وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑےہوں۔ یہ افراد وہ ہیں جو ہر قسم کے ہنگاموں کے باوجود اپنے آپ کو آزادی کے صحیح استعمال پر قائم رکھیں ، جو اپنی ذہنی قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے اور نبیوں کی ہدایت سے استفادہ کرتے ہوئے اللہ کودریافت کریں اور اپنی زندگی کو ہدایتِ الٰہی کے مطابق بنائیں ۔ اِسی قسم کے صالح افراد اللہ کو مطلوب ہیں ۔ اللہ اپنے خصوصی انتظام کے تحت پوری تاریخ میں مسلسل طورپر ایسے ہی صالح افراد کا انتخاب کررہا ہے۔
پوری کائنات اللہ رب العالمین کی مجبورانہ حمد کررہی ہے۔ اس معاملے میں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے آزادانہ طورپر خدائی سچائی کو دریافت کرے، اور کسی جبر کے بغیر وہ خدا کی حمد کرے، اور الحمد للہ کلچر کو اپنائے۔یہی خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) وہ چیز ہے جو انسان کو ابدی جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے۔ اب یہ انسان کے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کون سی راہ اختیار کرتا ہے۔ جو شخص ناشکری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے آخرت میں ابدی ناکامی ہے۔ اور جو شخص شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے جنت کی نعمتیں ۔