Tazkirul Quran (Urdu) · Those that are Sent Forth (Al-Mursalat)

Tazkirul Quran, Qur’an 77:1–7

Those that are Sent Forth (Al-Mursalat)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔

ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page