Tazkirul Quran, Qur’an 82:1–19
The Cleaving Asunder (Al-Infitar)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان معلوم کائنات کی سب سے زیادہ بامعنی مخلوق ہے۔ انسان کوا یک ایسا جسم دیا گیا ہے، جوانتہائی حد تک موزوں ہے۔ اس کو ایک ایساد ماغ دیا گیا ہے، جس سے بہتر عطیہ کاتصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کے ساتھ جس دنیا میں انسان کو رکھا گیا ہے، وہ بھی ناقابلِ بیان حد تک انسانی ضروریات کے مطابق ہے۔
عطیہ ہمیشہ اپنے ساتھ ذمہ داری لاتا ہے۔ یہی فطری اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کوجو غیر معمولی عطیہ ملا ہے وہ خود اس بات کا اعلان ہے کہ اس کے ساتھ کچھ ذمہ دار یاں بھی جڑی ہوئی ہیں ۔وہ ذمہ داری یہ ہے کہ انسان خدا کی نعمتوں کو خدا کی امانت سمجھے ۔ وہ خدا کے عطیات میں خدا کی مرضی کے مطابق تصرّف کرے۔
انسان کی بامعنی تخلیق ایک انتہائی بامعنی مقصد کے لیے ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک دن اس کو انصاف کی عدالت میں کھڑا کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ کس نے خدا کی دی ہوئی چیزوں میں صحیح تصرف کیا۔ اور وہ کون ہے جو اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ یہ انصاف کا دن جو موت کے بعد آنے والا ہے، اس دن خدا تمام انسانوں کو اپنے ریکارڈ کے مطابق جانچے گا، اس جانچ میں جولوگ پورے اتریں ان کے لیے جنت ہے، اور جو لوگ اس جانچ میں پورے نہ اتریں ان کے لیے جہنم۔
قرآن میں یہ خبر دی گئی ہے کہ بالآخر انصاف کا ایک دن آنے والا ہے جب کہ تمام انسانوں کو جمع کرکے ان کے عمل کے مطابق ان کو سزا یا انعام دیا جائے گا۔ یہ خبر دنیا کی موجودہ صورت حال کے عین مطابق ہے۔ انسان کی بامعنی تخلیق اس خبر میں اپنی توجیہ پالیتی ہے۔ اسی طرح انسان کے قول و عمل کی ریکارڈنگ کا نظام جو موجودہ دنیا میں پایا جاتا ہے وہ اس خبر کے بعد پوری طرح قابلِ فہم بن جاتا ہے۔ (قول و عمل کی ریکارڈنگ کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج میں ملاحظہ فرمائیں )
احادیث میں قیامت کی نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ علامتیں اگر ظاہر ہوجائیں تو انسان کو کم سے کم یہ کرنا ہے کہ وہ قیامت کے معاملے میں چوکنا ہوجائے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ قیامت کے بارے میں سوچنے لگے۔دورِ جدید میں گلوبل وارمنگ کے گہرے سائنسی مطالعہ اور مشاہدہ کی بنا پرسائنسی حلقوں میں اب اِس طرح کے الفاظ بولے جارہے ہیں— اب قیامت زیادہ دور نہیں
Doomsday is not far
سائنس داں یہ بھی مانتے ہیں کہ اِس عمل کو روکنا، انسان کے بس سے باہر ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ انسان زیادہ سے زیاہ توبہ اور انابت کرے۔