Tazkirul Quran, Qur’an 83:1–17
Those who Give Short Measure (Al-Mutaffifin)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
تطفیف کا لفظی معنی ہےناپ تول میں کمی کرنا۔تجارت کو منصفانہ بنیاد پر قائم کرنا، شریعتِ الٰہی کا ایک اہم اصول ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں ایک بنیادی حکم یہ دیاگیا ہے کہ تجارتی سودے میں کوئی تاجر نہ کم تولے، اور نہ کم ناپے، بلکہ ناپ اور تول میں پوری طرح عدل سے کام لے۔ مثلاوَلَا تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ (11:84)۔یعنی ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْیَاءَہُمْ (26:183)۔ یعنی لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو ۔وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیزَانَ (55:9)۔ یعنی اور تول میں نہ گھٹاؤ۔
مگر سورہ المطففین کی آیات 1-6میں ایک اور حکم آیا ہے۔اِس سورہ کے حکم اور دوسری سورتوں کے حکم میں بظاہر لفظی اعتبار سے مشابہت ہے، یعنی دونوں میں ناپ اور تول کی زبان استعمال کی گئی ہے۔ مگر دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ دوسری سورتوں میں دینے کے وقت یک طرفہ طورپر کم تولنے یا کم ناپنے کا ذکر ہے۔ مگر اِس سورہ میں برعکس طور پر یہ کہاگیا ہے وہ لوگ جو دوسروں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں ، اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا کر دیں ۔ اس فرق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری سورتوں میں تاجرانہ بد معاملگی سے منع کیا گیا ہے۔ مگر سورہ المطففین میں جو بات ہے، اُس کا تعلق تجارتی معاملے سے نہیں ہے۔ یہاں ناپ اور تول کی زبان بطور تمثیل استعمال کی گئی ہے۔ یہاں ناپ اور تول کی مثال سے ایک سماجی برائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔یہ دراصل ایک ناپسندیدہ انسانی کردار ہے، جس کو ناپ اور تول کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں ، جن کامزاج یہ ہو کہ اپنے معاملے میں اُن کا معیار کچھ ہو، اور دوسروں کے معاملے میں اُن کا معیار کچھ اور۔ان کایہ حال ہو کہ ان کو جب اپنے لیے لینا ہو تو وہ بھر پور طور پر لیں ۔ اور جب دوسروں کو دینا ہو تو وہ کمی کرکے دوسروں کو دیں ۔ یہ تفریق ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو آدمی کو تباہی کے سواکہیں اور نہیں پہنچاتی۔اس معاملہ کا تعلق زندگی کے تمام پہلوؤں سے ہے۔
اپنے اور غیر میں اس قسم کا ہر فرق تطفیف ہے۔ جس آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج ہواس کے اندر کبھی جنتی شخصیت پیدا نہیں ہوسکتی(صحیح البخاری، حدیث نمبر 13)۔ اس قسم کامزاج آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اعلیٰ صفات کی پرورش رک جائے اس کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی ترقی کے اعلیٰ مراحل طے کرنے سے محروم رہے اور آخر کار وہ اسی حال میں مرجائے۔
ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا پورا حق وصول کرے۔ مگر اعلی انسانی کردار یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو بھی ان کا پورا پورا حق ادا کرے۔ وہ دوسروں کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کر رہا ہے، جو لوگ خود پورا لیں اور دوسروں کو کم دیں وہ آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہاں وہ برباد ہو کر رہ جائیں گے۔
جو اپنے لیے پورا وصول کر رہا ہے وہ گویا اس بات کو جانتا ہے کہ آدمی کو اس کا پورا حق ملنا چاہیے۔ ایسی حالت میں جب وہ دوسروں کو دینے کے وقت انہیں کم دیتا ہے تو وہ دوسروں کے حقوق کے بارے میں اپنی حساسیت کو گھٹاتا ہے ۔ جو شخص بار بار اس طرح کا عمل کرے اس پر بالآخر وہ وقت آئے گا جب کہ دوسروں کے حقوق کے بارے میں اس کی حساسیت بالکل ختم ہوجائے۔ اس کے دل کے اوپر پوری طرح اس کے برے عمل کا زنگ لگ جائے۔
خدا اس دنیا میں اپنی صفات کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔ آخرت میں وہ اپنی ذات کے ساتھ ظاہر ہوگا، جو آدمی صفات کی صورت میں خدا کو نہ دیکھ سکے، وہ ذات کی صورت میں بھی خدا کو دیکھنے سے محروم رہے گا۔ انسان کے لیے بلاشبہ سب سے بڑی محرومی وہ ہوگی جب کہ خدا اپنے جمال و کمال کے ساتھ آخرت میں ظہور فرمائے گا، مگر حال یہ ہوگا کہ بہت سے لوگ وہاں کھڑے ہوں گے، مگر وہ اپنے اندھے پن کی وجہ سے اس کو دیکھنے کی سعادت نہیں پائیں گے۔