Tazkirul Quran (Urdu) · Those who Give Short Measure (Al-Mutaffifin)

Tazkirul Quran, Qur’an 83:18–36

Those who Give Short Measure (Al-Mutaffifin)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

انسان موجودہ دنیا میں پیدا ہوتاہے۔ یہاں وہ اپنے صبح وشام گزارتا ہے۔ مختلف تجربات کے دوران یہاں اس کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ان تجربات کے ذریعے شعوری یا غیر شعوری طورپر انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہی موجودہ دنیا حقیقی دنیا ہے۔ اس کے مقابلے میں اس کو محسوس ہوتاہے کہ آخرت کی دنیا تصوراتی دنیا (imaginary world) ہے۔ اس ظاہری فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کے لیول پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔اس بنا پر موجودہ دنیا میں اکثر لوگ اس بات کے حریص نہیں ہوتے کہ دوسروں کو ان کا پورا حق ادا کریں ۔ ان کی ساری دل چسپی اس میں ہوتی ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا حق بھرپور وصول کرسکیں ۔

مگر یہ روش خدا کی اسکیم کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا میں کچھ چیزیں وقتی طور پر اہم دکھائی دیتی ہیں ۔ لیکن آخرت کا دور ایک مختلف دور ہوگا۔ ایسے لوگ آخرت میں محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ عقلمند لوگ وہ ہیں جو سب سے زیادہ اس بات کے حریص بنیں کہ وہ دوسروں کو بھرپور طور پر ان کا حق ادا کریں ، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں بھرپور طور پر خدا کی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔

جو لوگ آخرت کے دور میں اس طرح داخل ہوں کہ انھوں نے اپنے آپ کو وہاں کے تقاضوں کے مطابق تیار نہ کیا ہو تو وہ وہاں کامل طور پر بے جگہ ہوجائیں گے۔ ان کو آخرت کے دور حیات میں حسرت کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہوگا۔مثلاً جو لوگ برتری کی تقریر کرنے کے ماہر ہوں، وہ لوگ آخرت کی دنیا میں بے زبان (speechless) ہوجائیں گے۔ کیوں کہ وہاں صرف ایک ہی زبان کی قیمت ہوگی، اور وہ ہے تواضع (modesty) کی زبان۔جو لوگ غیر خدا کی بڑائی میں جیتے ہوں، وہ آخرت کے دور میں بالکل بے قیمت ہوجائیں گے۔ کیوں کہ آخرت کے دور میں صرف ان لوگوں کو مقام ملے گا، جو خدا کی بڑائی میں جینے والے ہوں۔ جو لوگ نفرت (hate)کے الفاظ بولنے کے ماہر ہوں، وہ آخرت کے دور میں اپنی قیمت کھودیں گے۔ کیوں کہ آخرت میں محبت انسانی کا کلچر ہوگا، نہ کہ نفرت انسانی کا کلچر۔اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آج کی دنیا میں جو لوگ بڑے دکھائی دیتے ہیں ، وہ کل آنے والی دنیا کے دور حیات میں آخری حد تک چھوٹے دکھا ئی دینے لگیں گے۔اس کے برعکس، جو شخص آخرت کی خاطر اپنی دنیوی مصلحتوں کو نظر انداز کردے وہ دنیا پرستوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ وہی لوگ ہوشیار تھے جن کو دنیا میں نادان سمجھ لیا گیا تھا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page