Tazkirul Quran (Urdu) · The Bursting Open (Al-Inshiqaq)

Tazkirul Quran, Qur’an 84:1–25

The Bursting Open (Al-Inshiqaq)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

کائنات کا نظام تقاضا کرتا ہے کہ آخری فیصلہ کا ایک دن آئے۔ اسی دن کی خبر تمام پیغمبر اور ان کے سچے نائب دیتے رہے ہیں ۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کا اعتراف نہ کریں بلکہ حق کے داعیوں کے دشمن بن جائیں وہ ایسی سرکشی کرتے ہیں جس کے ہولناک انجام سے وہ کسی طرح بچ نہیں سکتے۔ تاہم جو لوگ ہر قسم کی مشکلات کے باوجود صداقت کی آواز پر لبیک کہیں وہ خدائے مہرباں کی طرف سے ایسا انعام پائیں گے جس سے بڑا انعام اور کوئی نہیں۔

اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کو ان کی موت سے پہلے بتادیا جائے کہ ان کے بارے میں خالق کا تخلیقی پلان (creation plan)کیا ہے۔ قبل از موت زندگی کیا ہے اور بعد از موت زندگی کیا ہے۔ اسی لیے اس کام کو قرآن میں دوسرے مقام پر اِنذار و تبشیرکا کام قرار دیا گیا ہے۔ اس خاص کام کے لیے خدا نے ہر زمانے میں اپنے پیغمبر بھیجے اور اب ختم ِ نبوت کے بعد یہی کام آپ کے امتیوں کو انجام دینا ہے۔ جو شخص انذار و تبشیر کے اس کام کو انجام دے وہ داعی ہے، اور جس کے اوپر اس کا م کو انجام دیا جائے وہ مدعو ہے۔ داعی اور مدعو کے اس تعلق کو یہاں شاہد اور مشہود کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

’’ہلاک ہوئے خندق والے‘‘۔قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر قائم تھا، یعنی مذہبی عدم رواداری (religious intolerance) کا کلچر ۔ اِس کلچر نے قدیم زمانے میں پُرامن دعوتی عمل (peaceful Dawah work) کو عملاً ناممکن بنا دیا تھا۔ خدا کا کوئی پیغمبر جب ایک نئے مذہب کی تبلیغ کرتاتومروجہ مذہب کے ذمے دار پیغمبر کے خلاف تشدد کرنے لگتے۔یہ رواج خدا کے تخلیقی پلان کےخلاف تھا، کیوں کہ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے تحت، ہر انسان کو فکر اور اظہارِ خیال کی کامل آزادی عطا کی ہے۔ مذہبی جبر کا نظام خدا کی دی ہوئی آزادی کو منسوخ کرنے کے ہم معنی تھا۔ خدا کو مطلوب تھاکہ مذہبی جبر کا یہ مصنوعی نظام ختم ہو اور مذہبی آزادی کا فطری نظام قائم ہوجائے۔ اِس لیے اللہ تعالی نے قرآن میں رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ ہر قیمت پر اِس مصنوعی نظام کو ختم کرو، خواہ اس کے لیے تم کو جنگ کرنا پڑے (8:39)۔ صحابی رسول عبد اللہ بن عمر کے مطابق، رسول اور اصحابِ رسول نے اِس حکمِ خداوندی کی تعمیل کی، یہاں تک کہ اِس جبری نظام کا خاتمہ ہوگیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4515)۔

آسمانی کتابوں میں قرآن استثنائی طور پر ایک محفوظ کتاب ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ قرآن کو خدا کی خصوصی مدد حاصل ہے۔ اس کو زیر کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں یہاں تک کہ قیامت آجائے۔

’’اور اللہ ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے‘‘ ۔اس میں اہل ایمان کے لیے خوش خبری ہے۔یہ آیت اہل ایمان کے لیے حوصلہ کی آیت ہے۔ یعنی اہل ایمان اس دنیا میں اکیلے نہیں ہیں ۔ اللہ ان کے اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان ہے، وہ اسلام کی مخالفت کرنے والوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page