Tazkirul Quran, Qur’an 85:1–22
The Constellations (Al-Buruj)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان کے اوپر ستارہ کا چمکنا تمثیل کی زبان میں اس واقعہ کی یاد دہانی ہے کہ کوئی دیکھنے والا اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہ دیکھنے والا انسان کے اعمال کو ریکارڈ کر رہا ہے۔ وہ موت کے بعد دوبارہ انسان کو پیدا کرے گا۔ اور اس سے اس کے تمام اعمال کا حساب لے گا۔ یہ صرف امتحان کی مہلت ہے جو انسان کے درمیان اور اس وقت کے درمیان حد فاصل بنی ہوئی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اس کا وہ انجام سامنے آجائے گا جس سے آج وہ بظاہر بہت دور نظر آتا ہے۔
کائنات کا خالق اپنی ذات کے اعتبار سے غیب میں ہے۔مگر اپنے تخلیقی عمل کے اعتبار سے وہ کائنات کی ہر چیز میں نمایاں ہے۔ انسان اگر سنجیدگی کے ساتھ کائنات پر غور کرے تووہ یقینی طور پر خدا کو پالے گا۔ وہ اس حقیقت کوجان لے گا کہ موجودہ کائنات میں اس کے لیے صرف خدا کی اطاعت کارویہ درست ہے۔ خدا کے ساتھ سرکشی کرنے والے کے لیے خدا کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں ۔ موجودہ زمانے میں اہلِ سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ کائنات اتنی حیرت ناک ہے کہ اگر اس کو سوچا جائے، تو رونگٹےکھڑے ہوجائیں، اور بدن میں کپکپی طاری ہوجائے۔ زمین میں اور بقیہ کائنات میں اتنی زیادہ نشانیاں ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان میں سنجیدگی سے (sincerely) غور کرے، تو یہ کائنات اس کے لیے خدا کی معرفت اورجلال و جمال کا آئینہ بن جائے۔
جس طرح مخلوقات اپنے خالق کی نشانیاں دکھاتی ہیں ۔اسی طرح انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے، ایک انتہائی با معنی مخلوق ہے۔ انسان کی تخلیق میں ایک انتہائی ذہین ڈیزائن (intelligent design) پائی جاتی ہے۔ اِس تخلیق میں یہ واضح اشارہ موجود ہے کہ انسان سے اس کے خالق کو اِس دنیا میں ایک مثبت کردار (positive role) مطلوب ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ عام طورپر انسان اس کےبرعکس منفی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہ بلاشبہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔