Tazkirul Quran, Qur’an 86:1–17
That which Comes in the Night (Al-Tariq)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان کی اور دنیا کی تخلیق میں واضح طور ایک منصوبہ بندی ہے۔ یہ منصوبہ بندی تقاضا کرتی ہے کہ اس کی تخلیق کا کوئی مقصد ہو۔ یہی مقصد ہے جو وحی کے ذریعہ انسان کے اوپر کھولا گیا ہے۔ تاہم وحی سے وہی شخص نصیحت قبول کرے گا جس کے اندر سنجیدگی کا مزاج ہو۔یہی اعلی شخصیت کا حامل انسان ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو ربانی شخصیت (آل عمران، 3:79)کی حیثیت سے تیار کرتا ہے۔جو اپنے آپ کو ہر قسم کے دنیوی محرکات (worldly motivation) سے اوپر رکھتا ہے۔ اسی قسم کے انسان کے اندر سوچنے اور نصیحت لینے کا مزاج ہو تا ہے۔ وہ اپنی اصلاح میں لگے رہتے ہیں ۔اس پر جو حال بھی گزرے، اس کووہ آبجکٹیو (objective) انداز میں دیکھتے ہیں ، نہ کہ ردعمل کے انداز میں ۔حقیقت یہ ہے کہ جس نےاپنے آپ کو کامل طورپر متعصبانہ فکر (biased thinking) سے پاک کیا، اور اس کے اندر اعتراف کا مادہ ہو۔ وہ کسی رائے کو سچائی کے اعتبار سے دیکھے گا، نہ یہ کہ وہ کس شخص کی رائے ہے۔ ایسے لوگ خدا کے ابدی انعامات میں داخل کیے جائیں گے۔ اور جن لوگوں کی سرکشی ان کے لیے نصیحت قبول کرنے میں رکاوٹ بن جائے، ان کا انجام صرف یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے آگ میں جلتے رہیں ۔