Tazkirul Quran (Urdu) · The City (Al-Balad)

Tazkirul Quran, Qur’an 90:1–20

The City (Al-Balad)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

انسان کسی حال میں اپنے آپ کو مشقتوں سے آزاد نہیں کرپاتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کسی بالاتر قوت کے ماتحت ہے۔ اسی طرح انسان کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ کوئی برتر آنکھ بھی ہے جو اس کو دیکھ رہی ہے۔ انسان کی قوتِ نطق اشارہ کرتی ہے کہ اس کے اوپر بھی ایک صاحبِ نطق ہے جس نے اس کو نطق کی صلاحیت دی۔ اور اس کو ہدایت کا راستہ دکھایا۔ آدمی اگر حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو پہچان لے تو یقیناً وہ خدا کو بھی پہچان لے گا۔

’’ہم نے انسان کو مشقت (کبد)میں پیدا کیا ہے‘‘ یہ ایک عام انسانی تجربہ ہے کہ زندگی مشقتوں سے خالی نہیں ۔ موجودہ ترقی یافتہ دنیا میں بھی ’’کبد‘‘ کی یہ صورتِ حال بدستور باقی ہے۔ علمی تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہوا ہے ۔ روسی ماہر نفسیات نمیلو(Anton Vitalievich Nemilov)نے لکھا ہے— یہ ناقابل تصور ہے کہ انسانی زندگی المیہ سے خالی ہو ۔

Human life is unthinkable without tragedies, without the tragic element. The more highly developed and nearer to perfection man is, the greater are the possibilities for tragic conflicts. (Biological Tragedy of Woman, p. 13-15)

لیکن خدا کے تخلیقی نقشہ سے بے خبری کی بنا پر لوگ اس کی نوعیت کو سمجھ نہیں پاتے ہیں اور غلط ردعمل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔ مشقت جب خود فطرت کے قانون کے مطابق انسا نی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے تو ہمیں اس کو مان کر زندگی گزارنا چاہیے ، نہ کہ اس کا انکار کر کے ۔

جہاد کی اصل حقیقت خدا کی راہ میں اپنا آپ کو تھکانا ہے۔اسی کو یہاں ’’نجد‘‘کہا گیا ہے، جس کا لفظی مطلب ہے بلند مقام ۔ یعنی دین پر عمل کرنا گویا اپنے آپ کو اُونچائی پر چڑھانا ہے۔ یہ شدید مراحل کیا ہیں ، یہ شدید مراحل وہ ہیں جب کہ انسان کو غیر مطلوب حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ یہ غیر مطلوب حالات وہ مواقع ہیں ، جن سے گزرتے ہوئے انسان صبر کا طریقہ اختیار کرکے اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرتاہے۔

خدا نے انسان کو دو قسم کی بلندیوں پر چڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک انسان کے ساتھ منصفانہ سلوک اور انسان کی ضرورتوں میں اس کے کام آنا۔ دوسری چیز اللہ پر ایمان و یقین ہے۔ یہ ایمان و یقین جب آدمی کے اندر گہرائی کے ساتھ اترتا ہے تو وہ آدمی کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی نافع بن جاتا ہے۔ ایسا انسان دوسروں کو بھی اسی حق پر لانے کی کوشش کرنے لگتا ہے جس کو وہ خود اختیار کیے ہوئے ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page