Tazkirul Quran (Urdu) · The Sun (Al-Shams)

Tazkirul Quran, Qur’an 91:1–15

The Sun (Al-Shams)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے سہ گانہ انتظام کیا ہے۔ ایک طرف کائنات اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کی مرضی کا عملی اظہار بن گئی ہے۔ دوسری طرف انسان کے اندر نیکی اور بدی کا وجدانی شعور رکھ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد مزید اہتمام یہ فرمایا کہ پیغمبروں کے ذریعہ حق و باطل اور ظلم و انصاف کو لوگوں کی قابلِ فہم زبان میں کھول کر بتا دیا گیا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ راہ راست پر نہ آئیں وہ بلا شبہ ظالم ہیں ۔ آخرت میں وہی شخص کامیاب ہو گا جس نے اپنےآپ کو اس ہدایت کے مطابق سنوارا، اور وہ شخص نامراد ہو گا جس نے اپنے آپ کو بگاڑا۔

آیت 8-10 خالق کے تخلیقی نقشے کا بیان ہے۔ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، ہر عورت اور مرد کو اس کے خالق نے مکمل آزادی دی ہے۔ اس کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنے اختیار کے مطابق سوچے اور اس پر عمل کرے۔لیکن خالق نے ہر انسان کے اندر فطرت یا ضمیر کی فیکلٹی رکھ دی ہے۔ ضمیر(conscience)انسان کا صحیح گائڈ ہے۔ اب یہ انسان کا اپنا چوائس (choice) ہے کہ وہ ضمیر کی آواز کو سنے یا اس کا انکار کردے۔’’کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا‘‘ ،یعنی جس نے ضمیر یا فطرت کی آواز سنی اور اپنا تزکیہ کیا۔ تزکیہ کا لفظی مطلب نمو یا افزائش (to flourish) ہے۔ اِس نمو کی ایک مادّی مثال درخت ہے۔ درخت ایک بیج کی نمو پذیری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک بیج موافق ماحول پاکر بڑھنا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک ہرا بھرا درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی تزکیہ کا بھی ہے۔ تزکیہ کے بغیر وہ اعلیٰ شخصیت نہیں بنتی جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (3:79) کہا گیا ہے۔

تزکیہ کا ایک اور مطلب تطہیر (purification) ہے۔ جس طرح خام لوہا (ore) مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک بامعنی مشین کی صورت اختیار کرتاہے، اسی طرح انسان کی شخصیت بھی مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک مزکی شخصیت (purified soul) کی صورت اختیار کرتی ہے۔مثلاً انسان کی ایگو پر ضرب لگے اور وہ عدل پر قائم رہے، انسان کو کوئی بڑائی ملے لیکن وہ متواضع (modest) بنا رہے، جب انسان کے اندر کسی کے خلاف نفرت جاگ اٹھے اور وہ پھر بھی اس کے لیے اپنی خیرخواہی کو باقی رکھے، وغیرہ۔ یہی وہ مواقع ہیں جو انسان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انسان کے اندر اعلی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں ۔اس امتحان میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جس کے اندر صبر کی صفت پائی جائے ۔ یہی وہ مزکّی انسان ہے جس کو قرآن کے مطابق، آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا ( 20:76)۔ یعنی جنت کی اعلی دنیا میں صرف ان افراد کو داخلہ ملے گا جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ کیا تھا۔

حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی ایک اعتبار سے اس بات کی علامت تھی کہ حق دار کا احترام کرو اور اس کا حق ادا کرو، خواہ وہ بے بس اور کمزور کیوں نہ ہو۔ ایک وجود جو بظاہر محض ’’اونٹنی‘‘ نظر آرہا ہے، عین ممکن ہے کہ وہ خدا کا نشان ہو جو لوگوں کی جانچ کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔دوسرے الفاظ میں ،دنیا میں عمل کے دوران ہر آدمی اپنے آپ کو کسی نہ کسی ڈھنگ سے تیار کر رہا ہے۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کا طریقہ اپناتے ہیں ۔ ایسے لوگ اپنے اندر ایک ایسی شخصیت تعمیر کر رہے ہیں جس میں تقوی ہو، اخلاقی شعور ہو، حق پرستی ہو ، احساس ذمہ داری ہو، ظواہر کے مقابلہ میں جواہر کی قدر ہو، سطحی باتوں کے بجائے اعلی حقائق کی اہمیت ہو، خودغرضی کے بجائے اصول پسندی ہو، وغیرہ۔ اسی قسم کے انسان خدا کی نظر میں کامیاب ہیں ۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page