Tazkirul Quran (Urdu) · Night (Al-Layl)

Tazkirul Quran, Qur’an 92:1–21

Night (Al-Layl)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

دنیا میں تمام چیزیں جوڑے جوڑے ہیں ۔ نر اور مادہ، رات اور دن، مثبت ذرہ اور منفی ذرہ، میٹر اور اینٹی میٹر۔ اس دنیا کی ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنے مقصد کو پورا کرتی ہے۔ یہ واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات میں مقصدیت ہے۔ ایسی با مقصد کائنات میں یہ ناممکن ہے کہ یہاں اچھا عمل اور برا عمل دونوں بالکل یکساں انجام پر ختم ہو۔ کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کرا رہی ہے اس سے یہ بات مطابقت نہیں رکھتی۔

اس زمین پر خدا ہر 24 گھنٹہ کے اندر شام کو صبح میں تبدیل کرتا ہے۔ یعنی وہ ہر روز رات کی تاریکی ختم کر کے دن کا اجالا پھیلا رہا ہے۔ اس طرح خدا دکھا رہا ہے کہ اس دنیا میں مایوسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔ یہاں ہراندھیرے کے بعد ا جالا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کی کتاب کے حاملین کے لیے’’ اندھیرا (مایوسی)‘‘ کا کوئی موقع نہیں ہے۔

خدا نے انسان کو آز مائش کے لیے پیدا کیا( الملک، 67:2)۔ اس بنا پرموجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ یہ آزادی انسان کاذاتی حق نہیں بلکہ وہ امتحان کی مہلت ہے۔ جو شخص خدا کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق زندگی گزارے گا اس کو خدا ابدی جنت میں جگہ دے گا اور جو شخص خدا کے نقشہ کے خلاف چلے گا اس کو خدا ابدی جہنم میں ڈال دے گا۔ یہ نقشۂ حیات کیا ہے ۔ اس کو بتانے کی ذمہ داری خدا نے خود اپنے اوپر لی ہے۔ اس حقیقت کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے  بے شک ہمارے ذمہ ہے راہ بتانا ۔یعنی یہ خدا کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسان کو صحیح راستہ دکھائے

Surely it is for God to guide mankind.

اس مقصد کے لیے خدا نے ایک قابل اعتماد انتبا ہی نظام(warning system) قائم کیا ۔ اس انتباہ کے لیے خدا نے یہ کیا کہ انسان کی تاریخ کے آغاز ہی سے اپنے پیغمبر انسان کے پاس بھیجنا شروع کیا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے ( النسا ء ، 4:165)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ لوگوں کو آگاہ کرنے کایہ کام امتِ محمدی کے ذریعہ انجام دیا جائے۔جیسا کہ سورہ البقرہ (2:143) اورسورہ الحج (22:78) میں ہےکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔

خدائی اصولوں کے تحت زندگی گزار نا انسان کو مشکل معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ بظاہر مشکل اپنے اندر آسانی لیے ہوئے ہے کیوں کہ وہ انسان کو ابدی نجات کی طرف لے جانے والی ہے۔اللہ کا تعلق اپنے بندوں سے صرف حاکم کا نہیں ، بلکہ مددگار کا بھی ہے۔ وہ اپنے ان بندوں کا راستہ ہموار کرتا ہے، جو اس کی طرف چلنا چاہیں ۔ اس کے برعکس، جو لوگ سرکشی کا راستہ اختیار کریں وہ انہیں سرکشی کے راستہ پر دوڑنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔انسان اس دنیا میں جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو وہ اللہ کی توفیق سے کرتا ہے۔ یعنی اللہ جب کسی انسان کے اندر استعداد دیکھتا ہے تو وہ اس کو توفیق عطا کرتا ہے۔اصل یہ ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی ملی ہے۔ وہ جس طرح چاہے عمل کرے، جس طرح چاہے نہ کرے۔ لیکن جس دنیا میں انسان کو عمل کرنا ہے، وہ دنیا اللہ کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ انسان کے باہر کی پوری دنیا کامل طور پر اللہ کی تخلیق ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان جب کچھ کرنا چاہے تو خارجی دنیا اس کے ساتھ مساعدت(support) کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اگرچہ اپنے عمل کے لیے آزاد ہے، لیکن وہ کوئی عمل اس وقت کرپاتا ہے، جب کہ اللہ کا نظام اس کے ساتھ موافقت کرے۔ اسی لیے انسان کو ہمیشہ اللہ سے مدد کی دعا کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس دنیا میں وہ کوئی کام اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس کو اللہ کی مدد ملتی رہے۔

اسلام میں اس بات کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ آدمی اپنی کمائی کوصرف اپنے لیے خاص نہ کرے بلکہ اس میں سے دوسروں کو بھی دے ۔ اپنے کمائے ہوئے مال کو صرف اپنے اوپر خرچ کرنا اور اس میں سے خدا کا اور انسان کا حصہ نہ نکالنا اسلام میں سخت گناہ ہے۔کوئی شخص اگر اپنا مال دوسرے کو اس لیے دے کہ اس نے اس کے اوپر احسان کیا تھا تو یہ دینا اگر چہ کوئی برائی نہیں مگر صرف اس قسم کے عطیہ سے ا سلامی تعلیم کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ۔ احسان اتا رنے کے لیے یا کسی اور جوابی فائدہ کے لیے دینے سے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا جس کے لیے اسلام میں اپنا مال دوسروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کوئی آدمی جب اپنے مال کا ایک حصہ دوسرے کو دیتا ہے یہ اس کی طرف سے ایک قسم کی قربانی ہوتی ہے۔ یہ اپنی ایک محبوب چیز میں دوسرے کو حصہ دار بنانا ہے، صرف اس لیے کہ وہ ضرورت مند ہے اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ مال والے لوگ اپنے مال کو دوسرے ضرورت مندوں کی مدد پر خرچ کریں ۔قرآن کے مطابق، کوئی آدمی نیکی کادرجہ نہیں پا سکتا جب تک وہ اپنے محبوب اثاثہ میں سے دوسروں کو نہ دے( 3:92)۔ یہ گویا محبت کی قربانی ہے۔ اور محبت کی قربانی ہی وہ سب سے بڑی قربانی ہے جو آدمی کی داخلی تطہیر کرتی ہے اور اس کو روحانی ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔جسم کی پاکی پانی سے ہوتی ہے، اور روح کی پاکی قربانی سے۔ آپ کے جسم پر کیچڑ لگ جائے تو آپ اس کو پانی کے ذریعہ پاک کر سکتے ہیں ۔ لیکن آدمی کی اندرونی ہستی میں جو برائیاں پیدا ہوتی ہیں ان کو محبوب چیزوں کی قربانی ہی کے ذریعہ پاک کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page