Tazkirul Quran (Urdu) · The Glorious Morning Light (Al-Duha)

Tazkirul Quran, Qur’an 93:1–11

The Glorious Morning Light (Al-Duha)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

نبوت کے ابتدائی زمانہ میں جو سورتیں اتریں ، ان میں سے ایک سورہ الضحی ہے۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں دن بھی آتا ہے اور رات بھی۔ دونوں کے ملنے سے یہاں کا نظام مکمل ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کے ڈیولپمنٹ کے لیے بھی سختی اور نرمی دونوں کا پیش آنا ضروری ہے۔ ایک شخص جب دعوت حق کا کام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کی طرف سے اس کو کبھی اچھا جواب ملتا ہے کبھی برا، کبھی روشن حالات سامنے آتے ہیں کبھی تاریک۔ فرمایا کہ اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ اس دنیا میں ایک بندہ خدا کے ساتھ سختی کے حالات اس لیے پیش آتے ہیں کہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہوں۔ اس کی راہ میں رکاوٹیں اس لیے ڈالی جاتی ہیں ۔ تاکہ اس کا مستقبل اس کے حال سے زیادہ بہتر ہوسکے۔کیوں کہ یہی دنیا کا نظام ہے ۔ یہاں روشنی اور تاریکی دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔ حق کے مسافرکو بھی کبھی امیدوں سے سابقہ پیش آئے گا، کبھی اندیشوں سے ۔یہ سفر کبھی ہموار فضا میں طے نہیں ہوتا۔ اگرچہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی اپنے دین کے خادموں کی مدد کرے گا ، تاہم داعی کو اپنی ساری توجہ آخرت کی منزل پر لگائے رکھنا چاہیے جو ہرقسم کے خیر اورسکون کا واحد ابدی مقام ہے ۔ داعی کی نظران چیزوں پرنہیں ہونی چاہیے جو ابھی اس کو نہیں ملی ۔ بلکہ اس کو دیکھنا چاہیے کہ جو چیزیں مل چکی ہیں ان کا حق اداہور ہا ہے یا نہیں ۔

اگلی آیتوں میں حق کی ادائیگی کی صورت بتا دی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیدا ہوئے، پھر اللہ نے آپ کو بہترین سرپرست عطا فرمایا۔ جب یتیمی کا تجربہ ہوا تو اس تجربے نے آپ کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ کوئی چیز آپ سے کھوئی گئی ہے۔ یہ احساس آخر کار حق کی تلاش کی صورت میں اُبھرا۔ اس طرح آپ تلاشِ حق میں سرگرداں ہوئے، تو اللہ نے آپ کے لیے حق کا دروازہ کھول دیا۔ آپ بظاہر بے مال تھے، پھر اللہ نے آپ کو آپ کی اہلیہ (خدیجہ) کے ذریعہ صاحبِ مال بنا دیا۔ یہ ایک تاریخی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ کمزوروں کی مدد کرے تاکہ وہ اللہ کی مدد کا مستحق بنے۔ اس کا کلام نعمتِ خداوندی کے اظہار کا کلام ہو تاکہ اللہ اس پر اپنی نعمتوں کا اتمام فرمائے۔

اللہ نے کہا کہ تم یتیم ہو گئے تھے، اللہ نے تمھاری یتیمی کی تلافی کا انتظام کیا۔ اس لیے تمھارے دل میں ان لوگوں کی جگہ ہونا چاہیے جو اپنے پیدائشی حالات کے نتیجہ میں بے جگہ ہو گئے ہوں ۔ تم بے مال تھے ، اللہ نے تم کو معاشی سہارا فراہم کیا۔ اس لیے تم کو بھی محروموں اور ضرورت مندوں کا خیر خواہ بنا چاہیے تم راہ سے بھٹکے ہوئے تھے اللہ نے تم کو ہدایت یاب کیا۔ اس لیے تم اس احسان کا شکر اس طرح ادا کرو کہ لوگوں کو ہدایت کے راستے پر لانے کی کوشش کرو۔ جو نعمت ہدایت تم کوملی ہے اس ہدایت کو دوسروں تک پہنچاؤ۔

’’سائل کو نہ جھڑ کو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی حق کی تلاش میں اللہ کے سامنے سائل بنے تو اللہ نے تم سے بے نیازی نہیں برتی۔ یتیم اور نادار اور بے راہ ہونے کے باوجود پوری طرح تمھاری طرف توجہ دی اور تم کو تمھارے سوال کا مکمل جواب عطا فرمایا ۔ تمھارا بھی یہ حال ہونا چاہیے کہ جو کوئی تمھارے پاس اپنا سوال لے کر آئے ، جو بھی تم سے حق کو جاننا چا ہے اس کوتم نہ جھڑکو— یہ ایک انتہائی صورت کا حکم ہے ۔ کیوں کہ نیاز مندانہ سوال پر توکوئی بھی شخص کسی کو نہیں جھڑکتا ۔ سائل کو جھڑکنے کی نوبت اسی وقت آتی ہے جب کہ اس نے اپنے سوال کو بے ڈھنگے اور نا معقول انداز سے پیش کیا ہو ۔ گویا آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنی ہی سختی کے ساتھ سوال کرے تم اپنے جواب میں سختی کا طریقہ نہ اختیار کرو بلکہ ہرحال میں نرمی اور شفقت کے ساتھ اس کا جواب دو۔ اس سورت میں بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے ۔مگر وہ ہر انسان کے لیے ایک عمومی تعلیم ہے۔

’’اور تم اپنے رب کی نعمت بیان کرو‘‘۔ ا س کی تشریح ابن ہشام نے ان الفاظ میں بیان کی ہے یعنی اللہ کی طرف سے نبوت کی جو نعمت اور عزت تم کو ملی ہے، اس کو بیان کرو(أَيْ بِمَا جَاءَكَ مِنْ اللهِ مِنْ نِعْمَتِهِ وَكَرَامَتِهِ مِنْ النُّبُوَّةِ فَحَدِّثْ) ، اس کا چرچا کرو، اور اس کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو بیان کرنے لگے، جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے ذریعہ تمام بندوں پر انعام فرمائی تھی۔ ابتدا میں آپ تنہائی میں ان باتوں کو لوگوں سے بیان کرتے تھے جن پر آپ کو اعتماد تھا(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ243)۔ پھر دھیرے دھیرے آپ کا پیغام پورے عرب میں پھیل گیا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page