Tazkirul Quran (Urdu) · Comfort (Al-Sharh)

Tazkirul Quran, Qur’an 94:1–8

Comfort (Al-Sharh)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ آپ کی تلاش حق کی سر گردانی اس نوبت کو پہنچ گئی تھی کہ زندگی آپ کے لیے ایک ایسا بوجھ بن گئی جو آپ کی کمر توڑے دے رہی تھی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔

’’مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘۔ خدا نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر عسر کے ساتھ یسر کا پہلو موجود ہوتا ہے۔اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی کُلّی معنوں میں مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر مسئلہ کے ساتھ ہمیشہ مواقع موجود رہتے ہیں ۔یہاں ہر خاتمہ ایک نئے آغاز کو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے کسی بھی حال میں مایوسی کی ضرورت نہیں ۔ انسان اگرمثبت ذہن کے ساتھ معاملے میں غور کرےتو ہرعسر میں اس کو یسرکا پہلو مل جائے گا۔ عسرکا مطلب ہے پرابلم،اور یسر کا مطلب موقع (opportunity)۔ مسا ئل کے ساتھ ہمیشہ مواقع موجود رہتے ہیں ۔یعنی پرابلم کے درمیان موجود مواقع کو جاننا، اور منصوبہ بند انداز میں ان کو اویل (avail) کرنا، یہی زندگی کا اصول ہے۔ اس لیے آدمی کو یہ حکمت اختیار کرنا چاہیے کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرے اور مواقع کو استعمال کرے

Ignore the problems and avail the opportunities.

شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے ساتھ کوئی سٹ بیک (set back) پیش آئے تو وہ نہ گھبرائے اور نہ وہ مایوس ہو۔ اگر وہ اپنے ہوش وحواس کو برقرار رکھے تو بہت جلد وہ دوبارہ اپنے حق میں ایک نیا امکان پالے گا۔ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرکے دوبارہ ترقی اور کامیابی کی منزل پرپہنچ جائے گا۔یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اپنے مقصد پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔

اس دنیا میں انسان تنہا نہیں بلکہ اس کا ایک پاسبان ہےیعنی اللہ رب العالمین، جو ہر مشکل وقت میں اس کے کام آتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔کیوں کہ خدا بلاشبہ کار ساز ہے۔ مگر وہ اسی شخص کا کارساز بنتا ہے جو اس کو اپنا کارساز بنائے ، جو اس پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page