Tazkirul Quran, Qur’an 95:1–8
The Fig (Al-Tin)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں ، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں ، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاں ان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
انسان احسنِ تقویم کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے۔احسنِ تقویم کو دوسری جگہ صورتِ احسن (الزمر،39:64) کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی انسان اپنے امکان(potential) کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مخلوق کادرجہ رکھتا ہے۔وہ ان تمام صفتوں کا حامل ہے جو اس کو جنت میں آباد کاری کا مستحق بنائیں ۔ انسان واحد مخلوق ہے جو اپنی ساخت کے اعتبار سے، معیار پسند (idealist)اور کمال پسند (perfectionist) واقع ہوا ہے۔یہ انسانی شخصیت کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان جس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ اس کا ہیبی ٹیٹ (habitat) نہیں ۔ایک سائنس داں نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہےکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتاہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی
It appears that man has strayed into a world that was not made for him.
انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان یہ عدم مطابقت ہر عورت اور ہرمرد کے لیے ایک فطری حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ اگر آدمی حق کی تلاش میں سنجیدہ ہو تو انسانی زندگی کا یہ پہلو اس کے لیے ایک ایسا سراغ (clue) بن جائے گا جس پر غور کرتے ہوئے وہ زندگی کی اصل حقیقت کو دریافت کرلے۔ موجودہ دنیا اس کے لیے صرف ایک عارضی قیام گاہ ہے، وہ اس کا ہیبی ٹیٹ نہیں ۔ جنت میں داخلہ سے پہلے انسان کو موجودہ زمین پر عارضی طور پر بسایا گیا ہے۔ یہاں ہر قسم کے امتحانی اسباب رکھے گئے ہیں ۔ ان اسباب کو پہچاننا اور ان کا شکار ہوئے بغیر زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھنا یہی وہ شرط ہے جو انسان کو اس کی مطلوب دنیا (جنت) تک پہنچانے والی ہے۔ یہی جنتی دنیا احسن تقویم کا اصل جائے مقام ہے۔ اِس معاملے میں کسی بھی انسان کا کوئی استثنا نہیں ۔
جو لوگ زمینی زندگی میں خدا کے تخلیقی اسکیم کے مطابق زندگی نہ گزارسکیں ، وہ پیدائشی طور پر احسنِ تقویم ہوتے ہوئے بھی اسفل السافلین میں جاگریں گے، یعنی وہ سارے امکان کے باوجود ابدی محرومی کا کیس بن کررہ جائیں گے۔اس حقیقت کو یہاں ’ پھر ہم نے اس کو سب سے نیچے پھینک دیا‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے،یہ بات دوسری سورتوں میں دوسرے الفاظ میں کہی گئی ہے۔ مثلاً إنَّ الإنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ (103:2)۔یعنی، بیشک انسان گھاٹے میں ہے۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن کے الفاظ پوری انسانی تاریخ پر منطبق ہوتے ہیں ۔ اول دن سے اب تک جو عورت یا مرد اس کرۂ ارض پر پیداہوئے، اُن سب کے ساتھ یہی واقعہ پیش آ ٓیا کہ تمام انسان احسنِ تقویم کے ساتھ پیدا ہوئے، مگر وہ محدود مدت کے بعد مر گئے اور اُن کی بنائی ہوئی دنیا خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے بالکل اجڑ گئی۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اِس کا مستحق بنائے کہ موت کے بعد اس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے جو کہ انسان کا اصل ہیبی ٹیٹ ہے۔
صرف اعلیٰ مقصد ہی انسان کی زندگی کامقصد ہوسکتا ہے۔ وہ اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی صلاحیتوں کے صحیح استعمال کے ذریعہ خدا کی معرفت حاصل کرے اور خدا کی پسندوالی زندگی گزارے۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کے یہاں بہت بڑا انعام ہے۔ جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں ان کاانجام کا مل گھاٹے کے سوا اور کچھ نہیں ۔