Tazkirul Quran, Qur’an 96:1–19
The Clot (Al-‘Alaq)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان کو اللہ تعالیٰ نے معمولی مادی اجزاء سے پیدا کیا۔ پھر اس کو یہ نادر صلاحیت دی کہ وہ پڑھے اور الفاظ کے ذریعہ معانی کا ادراک کرسکے۔ پھر انسان کو یہ مزید صلاحیت دی گئی کہ وہ قلم کو استعمال کرے اور اس طرح اپنے علم کو مدون اور محفوظ کرسکے۔ قراءت کی صلاحیت اگر آدمی کو خود پڑھنے کے قابل بناتی ہے تو قلم اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے علم کو وسیع پیمانہ پر دوسروں تک پہنچا سکے۔جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کریں اور حق کا راستہ اختیار کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں ، ان کا انجام بہت برا ہے۔ ایسے حالات میں حق کے داعی کا اصل سہارا یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے۔ وہ لوگوں سے محروم ہو کر خدا سے پائے، وہ لوگوں سے دور ہو کر لوگوں کے خدا سے قریب ہوجائے۔
اس سورہ کی ابتدائی پانچ آیتیں وہ ہیں جو پیغمبر اسلام پر سب سے پہلے نازل ہوئیں ۔ قرآن میں اتراہوا یہ پہلا کلام الہٰی بتاتا ہے کہ کسی حقیقی عمل کا آغاز کیاہے۔ یہ آغاز علم ہے۔ یعنی انسان کو باشعور بنانا۔ انسان کے اندر ذہنی تبدیلی لانا، انسان کے اندر فکری انقلاب پیدا کرنا۔ یہی انسانوں کے درمیان کسی حقیقی تحریک کاآغاز ہے۔ اس دنیا میں وہی انسانی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے جو شعور کی بیداری سے اپنے کام کاآغاز کرے۔
چودہ سو سال پہلے قرآن میں’’اقرأ‘‘ کا حکم آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خدائی کلام ہے ۔ رسول اللہ نے علم کا پیغام دیا جوابدی اہمیت کا حامل تھا۔ جوحال سے لے کرمستقبل تک انسان کے کام آنے والا تھا۔ اور جو اپنے وسیع انطباق کے اعتبار سے دوسرے تمام شعبوں کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ جب پہلی وحی اتری اس وقت عرب میں بہت سے مسائل تھے۔ مثلاًسماجی اعتبار سے وہاں پانی نہیں تھا، وہاں محفوظ راستے نہیں تھے،رومیوں اور ایرانیوں کا عرب علاقوں میں سیاسی دخل اندازی، سماج میں مختلف قسم کے جرائم،دینی اعتبار سے یہ مسئلہ تھا کہ توحید کے مرکز کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے، وغیرہ۔ ایک شخص جس کو صرف انسانی نظر حاصل ہو وہ اسی قسم کے ظاہری مسائل میں الجھ جائے گا۔ مگر قرآن میں جو پہلی آیت اتری وہ یہ نہیں تھی کہ — طہر الکعبة من الاصنام(کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)یا قاتل الفرس والروم(ایران و روم سے جنگ کرو)یا نفذ حدود الله على المجرمین(مجرموں پر حدود نافذ کرو) ۔ ان مسائل کا ذکر نہ کرتےہوئے قرآن کی پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ یہ تھی کہ ’’پڑھ‘‘ (إقرأ)، یعنی علم حاصل کرو۔ ’’اقرأ‘‘ابدی رہنمائی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں، ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے عمل کا آغاز ہمیشہ علم اور شعوری بیداری سے کرنا چاہیے۔ یہ نہایت اہم خدائی اصول ہے۔
’’ ہرگز نہیں ، انسان سرکشی کرتاہے۔ اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے‘‘۔ یہاں ایک انسانی کردار کے حوالے سے ایک انسانی نفسیات کو بتایا گیاہے۔ یہی نفسیات اکثر لوگوں کی سرکشی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ نفسیات، بے نیازی کی نفسیات ہے۔ بے نیازی کی نفسیات جب ترقی کرتی ہے تو وہ خودرائی، سرکشی اور گھمنڈ جیسی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے۔
ایک شخص کے پاس اتنا مال آجائے کہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے۔ ایک شخص جسمانی اعتبار سے اتنا طاقت ور ہو کہ وہ کسی کی مدد کے بغیر خود اپنا ہر کام کرلے۔ ایک شخص کے اندر اتنی زیادہ ذہنی صلاحیت ہو کہ وہ کسی کے مشورے کے بغیر خود اپنی عقل سے باتوں کو سمجھ لے اور اپنے عمل کا کامیاب منصوبہ بناسکے۔ جس شخص کے اندر اِس قسم کی اضافی خصوصیت پائی جائے، وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بے نیاز سمجھ لیتاہے۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر اُس کا یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مجھے کسی کے اوپر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ، میں خود اپنے ہر کام کو انجام دے سکتاہوں۔
بے نیازی کی یہ نفسیات انسان کے ذہنی اور روحانی ارتقا کے لیے قاتل ہے۔ ایسے آدمی کا ذہنی ارتقا (intellectual development) رک جائے گا اور اپنی بے نیازانہ نفسیات کی بنا پر ا س کو یہ محسوس بھی نہ ہوگا کہ میرے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک گیاہے۔ بے نیازی بظاہر کوئی برائی نہیں ، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ ایک سنگین برائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بے نیازی آخر کار آدمی کو کبر (arrogance)تک پہنچاتی ہے اور بلا شبہ کبر سے زیادہ تباہ کن کوئی اور چیز انسان کے لیے نہیں ۔
’’سجدہ کر اور قریب ہوجا‘‘۔سجدہ کیا ہے۔ یہ آدمی کی داخلی حالت کا خارجی اظہار ہے۔ آدمی کے دل میں اپنے رب کی عظمت کا شدید احساس طاری ہوا، وہ اللہ کے کمالِ قدرت کے مقابلے میں کمالِ عجز کو سوچ کر تڑپ اٹھا۔ اس کی یہ داخلی کیفیت جسمانی اعتبار سے اس حالت میں ڈھل گئی کہ وہ سجدہ میں گرپڑا۔ خدا کے آگے جھکنا اطاعت کی علامت ہے، اور سجدہ قربتِ خداوندی کی انتہا۔ سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو آخری حد تک اللہ کے آگے ڈال دیا ہے۔ اس نے اپنے پورے وجود کو اللہ کے حوالہ کردیا ہے۔ اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ انسان کو حقیقی خدا کی قربت کا تجربہ کراتا ہے۔