Tazkirul Quran (Urdu) · The Night of Destiny (Al-Qadr)

Tazkirul Quran, Qur’an 97:1–5

The Night of Destiny (Al-Qadr)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

سال کی ایک خاص رات (غالباً ماہ رمضان کے اخیر عشرہ کی کوئی رات) اللہ تعالیٰ کے یہاں فیصلہ کی رات ہے۔ دنیا کے انتظام کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعیین کے لیے خدا کے خصوصی منصوبہ کے تحت اس رات کو فرشتے بڑی تعداد میں اترتے ہیں ۔ اس قسم کی ایک خاص رات میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو زمین پر فرشتوں کی کثرت ہوتی ہے۔ اس سے زمین پر خاص طرح کا روحانی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر روحانیت بیدار کیے ہوئے ہوں وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ان کے اندر غیر معمولی روحانی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے جو ان کے دینی عمل کی قدروقیمت عام حالات سے بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ یہاں تک کہ فرشتوں کی کثرت کی بنا پرلیلة القدر کی رات امن کی رات (night of peace) بن جاتی ہے۔

اس سورہ میں رات کا لفظ انسان کی نسبت سے آیا ہے۔ یعنی وہ انسان جس کو اس رات کا فیض حاصل ہوجائے،جو لوگ اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر اس رات کو پہچانیں ، اور اس سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں ، ان کے اندر مبنی بر اسلام شخصیت بنے گی۔ ایسے لوگ مکمل معنوں میں امن پسند انسان (peaceful person) بن جائیں گے۔ ان کے اندر کامل معنوں میں پر امن سوچ (peaceful thinking) پیدا ہوجائے گی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے شب قدر کا علم دیا گیا، اور میں مسجد سے نکلا کہ تم لوگوں کو بتادوں۔ اتنے میں دو مسلمان لڑگئے۔ اس لیے وہ علم اٹھا لیا گیا (فَتَلَاحَى رَجُلَانِ فَرُفِعَتْ) مسند احمد، حدیث نمبر 22672۔ گویا جب لوگ باہمی لڑائی جھگڑے کی سطح پر ہوں تو علمِ الٰہی کی روشنی ان سے دور ہوجاتی ہے۔ خدائی کلام کو سننے کے لیے ان کے کان بہرے ہوجاتے ہیں ۔ معرفتِ خداوندی کا فیضان اسی قلب پر اترتا ہے، جو دل دوسروں کے خلاف بغض و حسد سے خالی ہو۔ جس کا سینہ دوسروں کے خلاف نفرت کا کوڑا خانہ بنا ہوا ہو، اس میں علم خداوندی کو لے کر چلنے والے پاک فرشتے قدم نہیں رکھتے۔

پر امن انسان بننا کوئی سادہ بات نہیں ۔ پر امن انسان بننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان جس کا دل منفی سوچ (negative thoughts) سے خالی ہو، وہ انسان جس کے اندر کامل معنوں میں تواضع (modesty) ہو، وہ انسان جو ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction)سے بچا ہوا ہو، وہ انسان جو اپنی روحانی بلندی کی بنا پر اعلی حقائق میں جینے والا بن گیا ہو۔

امن پسند انسان سے مراد وہ انسان ہے جس کے لیے قرآن میں نفس مطمئن (89:27) اور قلب سلیم (26:89) جیسے الفاظ آئے ہیں ۔ پرامن انسان وہ ہے جس کا دل غیر اللہ کی فکر سے خالی ہوجائے، جس کے دماغ میں اللہ کی نسبت سے کوئی کنفیوزن (confusion) باقی نہ رہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page