Tazkirul Quran (Urdu) · The Clear Evidence (Al-Bayyinah)

Tazkirul Quran, Qur’an 98:1–8

The Clear Evidence (Al-Bayyinah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں ۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں ۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔

دین کسی قسم کے خارجی ہنگامے کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ کی دنیا میں بسیرا لینے کا نام ہے۔ کوئی بھی دینی عمل، خواہ وہ روزہ ہو یا اور کوئی عبادت، ہر ایک اللہ تعالی کے یہاں اسی وقت قبول ہوتا ہے جب کہ اس میں اخلاص کی اسپرٹ پائی جائے۔ جو عمل اخلاص سے خالی ہو، اللہ کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں ۔ پچھلی امتوں میں جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اُن کو اللہ کی کتاب دی گئی تھی، لیکن ان کی بعد کی نسلوں کے درمیان کتاب کی تشریح وتوضیح میں علماء کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ ان اختلافات کی بنا پر امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔ اختلاف کا یہی واقعہ، فطرت کے قانون کے مطابق، امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں پیش آئے گا۔ دونوں کا مشترک سبب ایک ہے۔وہ یہ ہے کہ امت کی ابتدائی نسل میں دین اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے زندہ ہوتا ہے۔ لوگوں پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دین اصلاً اسپرٹ کا نام ہے۔لیکن بعد کے دور میں زوال کی بنا پر اسپرٹ مفقود ہوجاتی ہے اور لوگ دین کے فارم کو اصل دین سمجھ لیتے ہیں ۔ دورِ زوال میں اِن تبدیلیوں کی بنا پر دینِ خداوندی کا وہ حال ہوجاتا ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا ‌اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا ‌رَسْمُهُ، مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1763)۔ یعنی دورِ زوال میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہے گا۔ مسجدیں آباد ہوں گی، مگر وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔

چوں کہ فارم میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے، اِس لیے امت جب زوال کا شکار ہوکر فارم پر قائم ہوجائے تو ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں ۔ پہلے اختلاف آتا ہے، پھر فرقہ بندی ہوتی ہے اور پھر مختلف گروہوں کے درمیان تشدد شروع ہوجاتا ہے۔ اِس اختلاف کی بنا پر دین میں رایوں کا اختلاف بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ عام انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا اصل دین (دینِ قیم) کیا ہے۔

خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں ۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں ۔

دورِ زوال میں امت کی اصلاح کا صحیح طریقہ صرف ایک ہے— امام مالک بن انس (وفات 179ھ) اپنے استاد وہب ابن کیسان کے حوالے سے کہتے ہیں  إِنَّهُ لا يُصْلِحُ آخِرَ هَذِهِ الأُمَّةِ إِلا مَا أَصْلَحَ أَوَّلَهَا، قُلْتُ لَهُ يُرِيدُ مَاذَا؟ قَالَ ‌يُرِيدُ ‌التُّقَى (مسند الموطا للجوہری، حدیث نمبر 783)۔ یعنی بلاشبہ اس امت کے دورِ آخر کی اصلاح بھی اسی طریقے کی پیروی سے ہوگی جس طریقہ کی پیروی سے امت کے دور اول کی اصلاح ہوئی۔ میں (راوی) نے پوچھا کہ اس سے ان کی مراد کیا ہوتی تھی۔انھوں نے کہا کہ ان کی مراد ہوتی تھی تقوی۔ اہل تقوی یعنی وہ لوگ جو دنیاکے بجائے اللہ سے راضی ہو جائے ۔ آخرت میں خوش گوار یوں پر رضامندی اسی قسم کے لوگوں کے حصہ میں آتی ہے۔ یہی اسپرٹ (spirit) انسان کو جنت میں لے جائے گی۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page