معرفت کی دو سطحیں
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
آیت خلافت کی ترتیب کے سوال کو پہلے ہی طے کر چکی تھی۔ قرآن میں ثانی اثنین (دو میں کا دوسرا) کے لفظ میں انھوں نے خدا کی اس منشا کو پالیا کہ اس کے نزدیک ابو بکر دو میں کے دوسرے ہیں، وہ رسول خدا کے بعد نمبر دو پر ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں یہ معنوی اشارہ پانے کے بعد ان کے لئے اس معاملہ میں اختلاف و انتشار کا کوئی سوال نہ تھا۔ جن لوگوں نے آیت کو ظاہری مطلع سے دیکھا ان کو یہ آیت صرف غار ثور کے ایک تاریخی واقعہ سے متعلق نظر آئی۔ مگر جن لوگوں نے قرآن کی آیت کو باطنی مطلع سے دیکھا ان کے لئے وہ ترتیب خلافت کے نازک سوال کا جواب بن گئی۔ یہی معاملہ پورے دین اور پورے قرآن کا ہے۔ ایک دین داری اور قرآن فہمی وہ ہے جو ظاہری سطح پر ہوتی ہے۔ آدمی بس ظاہری چیزوں کو جانتا ہے اور ان کے مطابق عمل کرتا ہے۔ دوسری دینداری اور قرآن فہمی وہ ہے جو گہرائیوں میں اتری ہوئی ہو۔ آدمی الفاظ یا ظواہر سے گزر کر اندر چھپے ہوئے حقائق تک پہنچ جائے۔ وہ خدا کو اس کے غیبی روپ میں دیکھ لے۔ یہ دوسرا آدمی بھی بظاہر دیکھنے میں پہلے آدمی کی طرح ہوتا ہے مگر نفسیات کے اعتبار سے وہ بالکل دوسرا انسان ہوتا ہے۔ اس کی منصوبہ بندی اور پہلے شخص کی منصوبہ بندی میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا خدائی منصوبہ بندی اور انسانی منصوبہ بندی میں۔ معرفت کی اس دہری سطح کا تعلق شخصی دینداری سے بھی ہے اور اجتماعی دینداری سے بھی۔ ایک شخص جس کی رسائی ’سطور‘ تک ہو وہ قرآن کی آیتوں سے صرف ایک ایسا دین لے سکے گا جو اس کے ظاہری جسم کو چھوئے مگر اس کے اندرون تک نہ اترے۔ اس کے برعکس جس کی رسائی ’بین السطور‘ تک ہوگی وہ قرآن کی اسی آیت میں ایسے معنی پائے گا جو اس کی روح کے لئے ربانی غذا بن جائیں ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تقویٰ کا لباس زیادہ بہتر ہے (الاعراف ۲۶) یہاں عام آدمی نے لباس سے جسمانی کپڑا مراد لے لیا اور لباس تقویٰ کا مطلب یہ سمجھا کہ وہ لباس جس کی وضع قطع شرعی حدود کے مطابق ہو۔ مگر اسی آیت کو عروہ بن الزبیر نے پڑھا تو انھوں نے پایا کہ یہاں لباس کا لفظ تمثیلی مفہوم میں ہے۔ انھوں نے لباس تقویٰ کی تشریح خشیتہ اللہ سے کی۔ یعنی جس طرح جسم انسانی کی زینت یہ ہے کہ وہ ملبوس ہو اسی طرح روح انسانی کی زینت یہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈرنے والی ہو (تفسیر ابن کثیر) یہی معاملہ دین کے اجتماعی پہلو کا ہے۔ اجتماعیات میں دین کو قائم کرنا ایک ظاہری سطح کے اعتبار سے ہوتا ہے اور ایک باطنی سطح کے اعتبار سے۔ غزوہ حدیبیہ (شنھ) کے موقع پر عام مسلمان اس انداز میں سوچتے تھے کہ جہاد یہ ہے کہ کافروں سے لڑ جائیں۔ کیونکہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ مگر پیغمبر خدا اور ابو بکر صدیق کو نظر آیا کہ اسلام کی فتح اس میں ہے کہ کافروں کی تمام شرطیں مان کر ان سے نا جنگ معاہدہ کر لیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader