معرفت کی دو سطحیں
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
اطاعت کر رہا ہے۔ پھر اللہ نے اس کی آزمائش کے لئے اس کے پاس شیطان کو بھیجا۔ اس سے متاثر ہو کر وہ آدمی گناہ کا کام کرنے لگا۔ یہاں تک کہ اس کے اعمال ختم ہوگئے، حضرت عمر نے فرمایا : میرے بھتیجے تو نے سچ کہا۔ اس کے بعد حضرت عمر نے ان الفاظ میں آیت کی تشریح کی : عنی بها العمل۔ ابن آدم انقد ما يكون اس مثال سے عمل مراد لیا گیا ہے۔ انسان اپنے باغ کا الى جنته اذا كبر سنه وكثرت عياله اس وقت زیادہ محتاج ہوتا ہے جب کہ اس کی عمر بڑھے و ابن آدم انقد ما يكون الى عمله يوم اور اولاد زیادہ ہو جائے۔ اور انسان اپنے عمل کا سب القيامة (تفسير ابن کثیر) سے زیادہ محتاج قیامت کے دن ہوگا جو لوگ قرآن کی مذکورہ آیت کو ظاہری مطلع سے دیکھ رہے تھے ، انھوں نے باغ کو لفظی طور پر اس باغ کے معنی میں لیتانگر جو لوگ آیت کو باطنی مطلع سے دیکھ رہے تھے انھوں نے اس کو کھیتی کے معنی میں لیا۔ پہلے مفہوم میں آیت صرف دنیا کے پھل کے ملنے اور پھر چھن جانے کے معنی میں تھی۔ مگر دوسرے مفہوم میں وہ آخرت کی عظیم حقیقت کو واضح کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ ۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو خلافت کے معاملہ میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ کوئی کہتا خلیفہ کا انتخاب مہاجرین میں سے ہونا چاہئے، کوئی کہتا کہ انصار میں سے۔ کوئی اس منصب کے لئے ایک شخصیت کا نام لیتا اور کوئی دوسری شخصیت کا، اس سلسلے میں ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین سے جو روایت نقل کی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے : واتی الناس عند بيعة ابی بکر (آبا عبيدة بن ابو بکر رضہ سے بیعت کے وقت کچھ لوگ ابو عبیدہ بن جراح رض الجراح فقال : تا قونی و فیکم ثانی اثنین کے پاس آئے۔ انھوں نے جواب دیا : تم لوگ خلافت کے (كنزالعمال، جلد ۳ صفحه ۱۴۰) لئے میرے پاس آئے ہو جب کہ تمھارے درمیان ثانی اثنین را بو بکر) میں۔ ہجرت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف سفر کیا تو آپ کا قافلہ صرف دو آدمیوں پرمشتمل تھا۔ ایک آپ اور دوسرے حضرت ابو بکر۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : جب کافروں نے اس کو نکالا، جب وہ دومیں کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے (اذ اخرجه الذين كفر و الثاني اثنين اذ هما فى الغار، توبه ۴۰) جو لوگ لفظی سطح پر قرآن کو دیکھ رہے تھے، ان کے لئے یہ مسئلہ ابھی غیر طے شدہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کس کو خلیفہ بنایا جائے ۔ مگر جو لوگ قرآن کو معنوی سطح سے دیکھ رہے تھے، ان کے لئے قرآن کی یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader