معرفت کی دو سطحیں
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے تاکہ حالات معتدل ہوں اور اسلام کے لئے دعوتی عمل کی راہ کھل جائے۔ ظاہر ہے لوگ معاملہ کو تلوار کی سطح پر حل کرنا چاہتے تھے۔ مگر حکمت و بصیرت کی نگاہ سے دیکھنے والوں کو نظر آیا کہ معاملہ کو دعوت کے میدان تک لے جائیں۔ کیونکہ دعوت کا میدان وہ میدان ہے جہاں اسلام کو ابدی فوقیت حاصل ہے۔ یہی مثال ایک اور پہلو سے حضرت حسن اور حضرت حسین کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ دونوں کو بالکل یکساں قسم کی صورت حال سے سابقہ پیش آیا۔ حضرت حسن کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان کا مسئلہ تھا اور حضرت حسین کے سامنے یزید بن معاویہ کا۔ حضرت حسین نے معاملہ کو اس کی نظری صورت میں بس حق اور ناحق کے اعتبار سے دیکھا۔ وہ حق کے علم بردار بن کر ناحق سے لڑ گئے۔ اس کے برعکس حضرت حسن نے معاملہ کو عملی نقطۂ نظر سے دیکھا۔ ان کو مفید بات یہ نظر آئی کہ وہ ٹکراؤ کو ختم کر کے خانہ نشیں ہو جائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت حسین کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ وہ ناحق کو بدستور زندہ چھوڑ کر کربلا کے میدان میں شہید ہو جائیں۔ اور حضرت حسن کے طرز عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کو سیاسی استحکام مل گیا اور باہمی لڑائی ختم ہو کر اسلام کی توسیع کا کام از سر نو پوری قوت کے ساتھ شروع ہو گیا۔ اجتماعی معاملات میں گہری سیاست کو پانے کا راز صبر ہے۔ اس کے برعکس سطحی سیاست کا سبب بے صبری۔ مسلمان اس زمین پر اکیلے نہیں ہیں بلکہ دوسرے گروہوں کے ساتھ ہیں۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے اور یہاں ہر ایک کو عمل کا موقع ہے، خواہ وہ عادل ہو یا ظالم۔ اب اگر ایسا ہو کہ مسلمانوں کو جب بھی کسی شخص یا گروہ کی طرف سے کوئی گزند پہنچے تو وہ فوراً مشتعل ہو جائیں اور وقتی جذبات کے تحت اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو وہ ہمیشہ سطحی کارروائیاں کریں گے اور اس کے نتیجہ میں ہمیشہ ناکام رہیں گے۔ لیکن اگر مسلمان ایسا کریں کہ گزند کے ابتدائی جھٹکے کو سہہ لیں، وہ مشتعل نہ ہو کر معاملہ کے تمام پہلوؤں پر غور کریں۔ وہ اپنی کم زوریوں اور فریق ثانی کی قوتوں کا جائزہ لیں اور خالص حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر سے یہ رائے قائم کریں کہ واقعہ کا اصل سبب کیا ہے اور اس کو کوئی مزید خرابی لائے بغیر کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔ اگر مسلمان اس ”صابرانہ“ طریقہ کو اختیار کریں تو یقینی طور پر وہ گہری سیاست کو پالیں گے اور گہری سیاست اختیار کرنے والے کے لئے کبھی ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔ بے صبری آدمی کو جذباتی عمل یا سطحی کارروائیوں کی طرف لے جاتی ہے اور صبر آدمی کو منصوبہ بند عمل کا راستہ دکھاتا ہے اور امتحان کی اس دنیا میں طعی عمل کے مقابلہ میں منصوبہ بند عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader