Urdu book · احیاء اسلام

احیارِ اسلام

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

ایھا الناس ان الزمان قد استدار کھو اليوم اے لوگو زمانہ گھوم گیا۔ پس آج کے دن وہ اپنی اس کھیئته يوم خلق الله السموات والأرض ، وان ہیئت پر ہے جس دن که اللہ نے زمین و آسمان کو عدة الشهر عند الله اثنا عشر شہرا پیدا کیا تھا۔ اور مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک (ابن جرير وابن مردویه) ۱۲ مہینے ہیں۔ اس تاخیر میں بہت گہری مصلحت تھی۔ کیونکہ مذہب میں جب کوئی طریقہ عرصہ تک رایج رہے تو وہ مقدس بن جاتا ہے۔ لوگوں کے لئے اس کے خلاف سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چونکہ دو سال بعد خود ہی حج ان تاریخوں پر آ رہا تھا جو آپ چاہتے تھے۔ اس لئے آپ نے قبل از وقت اقدام کرکے غیر ضروری مسئلہ کھڑا کرنے سے پرہیز کیا۔ جب فطری رفتار سے حج اپنی اصل تاریخ پر آگیا تو آپ نے اعلان فرما دیا کہ یہی حج کی اصل تاریخ ہے اور آئندہ اب انھیں تاریخوں میں حج ہوتا رہے گا۔ یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنی پوری تحریک میں ربانی حکمت کو ملحوظ رکھا۔ آپ نے خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملایا، آپ نے خدائی منصوبہ سے موافقت کرتے ہوئے تمام کارروائیاں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی کوششوں کے عظیم الشان نتائج برآمد ہوئے۔ دور جدید میں اسلامی دعوت دین کی دعوت کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک، پیغمبر آخر الزماں کے ظہور سے پہلے۔ دوسرا، پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد ۔ آپ سے پہلے خدا کی جو کتابیں آئیں ان کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان لوگوں پر ڈالی گئی تھی جن کی طرف وہ کتابیں بھیجی گئی تھیں ۔ اس لئے ان کے بارے میں استحفاظ (حفاظت طلب کرنا) کا لفظ آیا ہے (بما) استحفظوا من كتاب الله وكانوا عليه شهداء، مائدہ ۴۴) مگر قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود اپنے ہاتھ میں لے لی (انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون، الحجر ۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مامور تھے کہ شرک کو مغلوب کریں اور توحید کو غالب و منکر کی حیثیت سے دنیا میں رائج کر دیں (الانفال (۳۹) یہ کام صرف خدا کی نصرت سے ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ حالات پیدا کئے جن کو استعمال کرکے آپ نے شرک کو مغلوب کیا اور توحید کو فکری غلبہ کے مقام پر پہنچایا۔ رسول اور اصحاب رسول کی کوششوں کے نتیجہ میں شرک ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو گیا۔ اب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page