طریق مطالعہ
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
طریقِ مطالعہ حضرت آدم علیہ السلام کی امت دجلہ وفرات کے درمیانی علاقہ میں بسی ہوئی تھی جس کو تاریخ میں میسوپوٹامیا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس وقت کے مسلمان تھے۔ جب ان میں بگڑ آیا تو ان کی اصلاح کے لئے خدا کے پیغمبر حضرت نوح بھیجے گئے۔ مگر قوم اپنی غفلت اور سرکشی کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوئی۔ بالآخران پر عظیم سیلاب کی صورت میں خدا کا عذاب آیا۔ حضرت نوح اپنے تھوڑے سے پیروؤں کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہو گئے ۔ صرف یہی کشتی اور اس کے سوار سیلاب کی زد سے بچے، باقی تمام لوگ غرق کر دیئے گئے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت نوح کا ایک لڑکا آنجناب کا ساتھ دینے پر راضی نہیں ہوا تھا، وہ بھی عمومی سیلاب کی زد میں آگیا۔ حضرت نوح نے اس کو پکارا کہ ہماری کشتی میں آجاؤ۔ لڑکے نے جواب دیا کہ میں پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں، وہ مجھ کو اس طوفان سے بچالے گا۔ پیغمبر نے کہا کہ آج کوئی چیز کسی کو امر اللہ سے بچانے والی نہیں (ہود ۴۳) حضرت نوح سیلاب کو ایک خدائی معاملہ سمجھتے تھے اس لئے وہ اس کو دیکھ کر خدائی کشتی میں داخل ہو گئے ۔ مگر ان کے لڑکے نے اس کو صرف ایک موسی معاملہ سمجھا اس لئے وہ پہاڑ کی طرف بھاگا۔ یہ فرق اتنا بنیادی تھا کہ ایک نے نجات پائی اور دوسرے کو سیلاب کی موجوں نے نگل لیا۔ کسی طوفان کو اگر آپ خدائی معاملہ سمجھیں تو آپ خدا کی طرف دوڑیں گے، آپ کے اندر تضرع کی کیفیت ابھرے گی (انعام ۴۲) اس کے برعکس اگر آپ اس کو عام اسباب کے تحت واقع ہونے والا معاملہ قرار دیں تو آپ کے اندر صرف غفلت اور سرکشی پیدا ہوگی، جیسا کہ حضرت نوح کے لڑکے میں پیدا ہوئی ۔ موجودہ زمانہ میں بھی مسلمان ایک بہت بڑے طوفان سے دوچار ہیں۔ وہ یہ کہ مسلمان ساری دنیا میں کافر قوموں اور بے دین طاقتوں کی زد میں آگئے ہیں۔ خواہ مسلم اکثریت کے علاقے ہوں یا مسلم اقلیت کے، غیر مسلم قومیں ہر جگہ مسلم قوموں کو اپنے نشانہ پر لئے ہوئے ہیں۔ یہ قومیں کہیں براہ راست طور پر مسلمانوں کو مغلوب کئے ہوئے ہیں اور کہیں خود مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو ان کے دوسرے گروہ کے خلاف استعمال کر کے بالواسطہ طور پر اپنے ظالمانہ ارادے پورے کر رہی ہیں۔ اہل ایمان کے بارے میں خدا نے بار بار وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہے (الانفال ۱۹) وہ اہل ایمان کی طرف سے دفاع کرتا ہے (الحج ۳۸) وہ ہرگز کافروں کو ان پر غالب آنے کا موقع نہیں دے گا (النساء ۱۴۱) اس لئے لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ مسلمانوں کے حق میں خدائی تنبیہ ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک خدائی معاملہ ہے نہ کہ محض ایک انسانی معاملہ۔ مگر مسلمانوں کے سوچنے کا انداز اس سلسلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader