اصحابِ رسول
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد حضرت عمر اٹھے اور انھوں نے فوراً حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرلی اور پھر تمام مہاجرین نے بیعت کی۔ اس کے بعد انصار نے بھی حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ تاہم انصار کے ایک طبقہ کے لئے یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ ایک شخص نے مہاجرین سے کہا کہ تم لوگوں نے سعد ابن عبادہ کو قتل کر دیا ( قتلتم سعد ابن عبادہ) انصار نے اسلام کے لئے بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ انھوں نے اسلام کے بے یار و مددگار قافلہ کو اس وقت پناہ دی جب کہ انھیں اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انصار اس فیصلہ پر راضی ہوگئے کہ اقتدار میں ان کا حصہ نہ ہو اور خلیفہ صرف مہاجرین ( قریش ) میں سے منتخب کیا جائے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کے پیچھے بہت گہری مصلحت تھی۔ قریش سیکڑوں سال سے عرب کے قائد بنے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں اگر کسی غیر قریش کو خلیفہ مقرر کیا جاتا تو اس کے لئے اجتماعی نظم کو سنبھالنا نا ممکن ہو جاتا۔ یہ انصار کی حقیقت پسندی تھی کہ انھوں نے اپنی اس کمی کو جانا اور یک طرفہ فیصلہ پر راضی ہو گئے۔ تاہم یہ حقیقت پسندی کی اتنی نایاب قسم ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ غیر جذباتی فیصلہ کرنے کی طاقت احد کی لڑائی اسلام کی تمام جنگوں میں سب سے زیادہ سخت لڑائی تھی۔ قریش کے تمام جنگی جوان غصہ میں بھرے ہوئے مسلمانوں کے اوپر ٹوٹ پڑے تھے۔ عین اس وقت جب کہ قتل و خون کا معرکہ گرم تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لی اور کہا کہ کون اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا۔ کچھ لوگ آپ کی طرف بڑھے۔ مگر آپ نے انھیں تلوار نہ دی۔ پھر ابو دجانہ سامنے آئے اور پوچھا کہ اے خدا کے رسولی اس تلوار کا حق کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم اس سے دشمن کو مارو یہاں تک کہ اس کو ٹیڑھا کر دو ( در ان تضرب به العد و حتی ینحنی ) ۔ ابو دجانہ نے کہا کہ میں اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے انھیں تلوار دے دی۔ حضرت ابو دجانہ تلوار لے کر چلے۔ اس وقت ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ اکڑ کر چلنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اس قسم کی چال خدا کو پسند نہیں سوا ایسے موقع کے (انها لمشية يبغضها الله الا فی مثل هذا الموطن) ابو دجانہ نے اپنے سر پر لال کپڑا باندھ لیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ موت سے نڈر ہو کر جنگ کے لئے نکل پڑے ہیں۔ وہ انتہائی بہادری کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ جو بھی ان کے سامنے آتا وہ ان کی تلوار کا نشانہ بن جاتا۔ اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا جس کو خود ابو دجانہ ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں : رایت انسانا یکمش الناس حشاشد صدا میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بری طرح لوگوں کو جنگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader