Urdu book · احیاء اسلام

طریق مطالعہ

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کیا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان آج مختلف الفاظ میں ایک ہی بات کو دہرارہے ہیں: یہ مسلمانوں کے خلاف اسلام دشمن طاقتوں کی سازش ہے۔ ہمارے تمام لکھنے والے قلم اور تمام بولنے والی زبانیں اسی ایک بات کو ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ کسی کو بھی ان واقعات میں خدا کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ البتہ کسی نے اس میں وھائٹ ہاؤس“ کا ہاتھ دریافت کر رکھا ہے اور کسی نے ” ریڈ ہاؤس “ کا۔ کوئی کسی مشرک قوم کو الزام دے رہا ہے اور کوئی کسی کافر قوم کو۔ یہ واحد سب سے بڑی گمراہی ہے جس میں موجودہ زمانہ کے تمام مسلم قائدین مبتلا ہیں۔ انھوں نے ایک کھلے ہوئے خدائی واقعہ کو انسانی واقعہ کے خانہ میں ڈال دیا ہے۔ حضرت نوح کے لڑکے کے اپنے زمانہ کے طوفان کے بارے میں غلطی کی تھی ٹھیک دہی غلطی مسلمان موجودہ زمانہ کے طوفان کے بارے میں کر رہے ہیں۔ وہ ایک خدائی معاملہ کو انسانی معاملہ سمجھ رہے ہیں۔ اگر وہ اس کو خدائی معاملہ سمجھتے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے۔ ان کے اندر اپنی اصلاح کا جذبہ ابھرتا۔ ان کی ساری سوچ خدارتی سوچ بن جاتی۔ مگر جب اس کو انھوں نے انسانی سازش قرار دیا تو اس کے بعد یہی ہو سکتا تھا کہ ان کے اندر دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور انتقام کا جذبہ ابھرے۔ خدا کو آدمی قادر مطلق جانتا ہے۔ اس لئے جب کسی سختی کو خدا کی طرف سے سمجھا جائے تو اس کے جواب میں اس کے اندر عجز کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے برعکس انسان کو وہ اپنے جیسا سمجھتا ہے اس لئے جب کسی سختی کو انسان کی طرف منسوب کیا جائے تو اس کے جواب میں نفرت اور انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ آج ساری دنیا کے مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر یہی دوسرا واقعہ پیش آیا ہے۔ کتاب آسمانی کی حامل قوموں کے لئے خدا کا یہ خاص قانون ہے کہ ان کے اندر جب بگاڑ آتا ہے تو ان پر خدا کی طرف سے تنبیہی سزائیں آتی ہیں تاکہ وہ جاگیں اور اپنی اصلاح کریں۔ یہود جو پچھلے دور کے حامل دین تھے، ان پر ان کے بگاڑ کے نتیجہ میں بار بار اس قسم کی تنبیہی سزائیں آتی رہیں۔ بائبل میں تفصیل سے ان تنبیہات کا ذکر ہے۔ حضرت مسیح کی پیدائش سے پہلے کی سزاوں کا ذکر زبور، یسعیاء ، یرمیاء اور حققی ایل میں موجود ہے اور حضرت مسیح کے بعد کی سزا کا ذکر متی اور لوقا کی انجیلوں میں ملتا ہے۔ مثلاً ایک کتاب میں یہود کے بگاڑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اس لئے خداوند کا قہر اپنے لوگوں پر پھیر کا اور اسے اپنی میراث (اسرائیل) سے نفرت ہوگئی اور اس نے ان کو قوموں کے قبضہ میں کر دیا اور ان سے عداوت رکھنے والے ان پر مسکراں بن گئے (زبور باب ۱۰۷) یہود کے ساتھ خدا نے جو معاملہ کیا اس کا ذکر قرآن میں ان لفظوں میں آیا ہے: اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلہ سے کتاب میں آگاہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے ۔ پس جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا تو ہم نے تمھارے اوپر ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page