Urdu book · احیاء اسلام

ضابطۂ فطرت

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

ضابطہ فطرت خدا نے جتنی چیزیں پیدا کی ہیں ان کی کارکردگی کا اس نے ایک پیمانہ مقرر کر دیا ہے۔ ہر چیز ٹھیک اسی پیمانہ کے مطابق اپنا عمل کرتی ہے (الفرقان (۴) سورج ، چاند اور ستاروں کی گردش کے نہایت محکم ضابطے ہیں اور ایک لمحہ کے فرق کے بغیر وہ ٹھیک اسی کے مطابق اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں (یس (۳۹) ایک عورت کے پیٹ میں بچہ کی پرورش کا آغاز ہوتا ہے، وہ اس کے اندر دھیرے دھیرے بڑھتا ہے اور بالآخر ایک مکمل انسان کی صورت میں تیار ہو کر ایک متعین وقت پر باہر آجاتا ہے۔ اسی طرح ہر چیز کے لئے خدا کے یہاں ایک مقدار مقرر ہے (کل شيئ عندہ بمقدار، الرعد (۸) اسی ضابطہ بندی کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر چیز کا سفر اس طرح جاری رہے کہ دوسرے سے ٹکرائے بغیر وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے (ولا الشمس ينبگي لها ان تدرك القمر ولا الليل سابق النہار کل فی فلك يسبحون ، لیس ۴۰) یہ اصول صرف ان چیزوں کے متعلق نہیں ہے جہاں خدا کے براہ راست حکم کے تحت کوئی نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔ ٹھیک یہی اصول ان انسانی معاملات میں بھی ہے جہاں انسان کی اپنی کوششوں سے واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ انسانی واقعات کے لئے مقرر ضابطہ قدیم عربوں میں یہ رواج تھا کہ جب بھی کسی کو اپنی بیوی پر غصہ آیا، فوراً اس نے تین طلاق بلکہ سو طلاق دے دی اور اس کے بعد ہی عورت کو گھر سے نکال دیا۔ اس کے نتیجہ میں بے شمار ذاتی، خاندانی اور سماجی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ قرآن میں یہ اصول مقرر کیا گیا کہ جس کو طلاق دینا ہو وہ عدت کے حساب سے طلاق دے اور اس عدت کا اہتمام کے ساتھ شمار کرے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ دو طہروں کے اندر دو مہینوں میں ایک ایک بار طلاق دے۔ پھر تیسرے مہینہ کے تیسرے طہر میں اگر چاہے تو رجوع کرے اور چاہے تو دستور کے مطابق طلاق کو مکمل کرکے عورت کو رخصت کر دے۔ اس طرح ایک ناخوش گوار واقعہ، کوئی مزید خرابی پیدا کئے بغیر، اپنی فطری ترتیب سے آخری نوبت کو پہنچ جاتا ہے۔ نیز اس غیر عاجلانہ طریقہ کا یہ فائدہ بھی ہے کہ عورت اگر حاملہ ہے تو اس دوران میں اس کا حمل معلوم ہو جائے گا اور اس کی عدت وضع حمل تک مقرر کی جاسکے گی تاکہ جو شخص اس کے حمل کا سبب بنارہے اس کے خرچ پر وہ اس کے گھر رہ کر وضع حمل کی مدت پوری کر سکے۔ جلد بازی کے بجائے اس طرح صبر اور انتظار کے اصول پر عمل کرنے کے بہت سے فائدے ہیں۔ اس دوران میں ہر دو فرق کے لئے ایسے نئے امکانات کھل جاتے ہیں جن کا ابتدائی وقت میں اندازہ نہیں کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page