Urdu book · احیاء اسلام

ضابطۂ فطرت

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

جاسکتا تھا۔ اس طرح ایک خاندانی واقعہ اپنی فطری رفتار سے اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے کوئی غیر ضروری قسم کی پیچیدگی بھی پیدا نہیں ہوتی۔ عمل کا یہ انداز قرآن کے الفاظ میں بالغ الامراندرانہ ہے: ومن يتوكل على الله فهو حسبه ان الله بالغ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس کے لئے امره قد جعل الله لكل شئ قدرا کافی ہے۔ اللہ اپنے امر کو پورا کر کے رہتا ہے، اللہ نے (الطلاق ٣) ہر چیز کے لئے ایک اندازہ مقرر رکھا ہے۔ یعنی جو شخص خدا کے مقرر کئے ہوئے طریقہ کو صحیح ترین طریقہ سمجھ کر اس پر اعتماد کرے گا اور صبر و انتظار کی تلخیوں کے باوجود اس کی پیروی میں اپنے معاملات انجام دے گا تو اس کی یہ روش اس کے معاملات کے حسن تکمیل کی ضمانت بن جائے گی۔ خدا تمام چیزوں سے آخری حد تک باخبر ہے اور اس نے انسان کے لئے کارکردگی کا جو ضابطہ طے کیا ہے اس میں تمام پہلوؤں کی کامل رعایت شامل ہے۔ اس نے اپنے علم کلی کے تحت ہر چیز کے عملدرآمد کا ایک انتہائی درست نظام مقرر کر دیا ہے۔ خدا کی اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جو اس مقررہ نظام کی کامل پابندی کرے۔ خاموش تدبیر قرآن میں کائناتی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اللہ ہر کام کا انتظام کر رہا ہے اور وہ نشانیوں کو کھول کر بیان کرتا ہے (یدبر الامر يفصل الآيات، الرعد (۲) یعنی قرآن اور کائنات دونوں ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔ قرآن میں جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ وہی ہیں جن پر خدا نے کائنات کو بالفعل قائم کر رکھا ہے۔ کائنات قرآن کی عملی تصدیق ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ قرآن جس ربانی حقیقت کا لفظی بیان ہے، بقیہ کائنات اسی کا عملی مظاہرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ اہل باطل کے مقابلہ میں اہل حق مضبوط بنیادوں پر اپنی تعمیر کریں۔ وہ اپنے وقت، اپنے مال اور اپنے طاقت ور کردار سے خدا کے دین کی عمارت کو اتنا مستحکم کر دیں کہ خدا کے دشمن اس کو ہلا نہ سکیں۔ خدا اپنے دین کو زمین پر غالب و سر بلند دیکھنا چاہتا ہے اور یہ کام اہل ایمان کی جدوجہد اور قربانیوں ہی کے ذریعہ انجام پا سکتا ہے۔ قرآن میں ایک مثال مکڑی کے گھر کی دی گئی ہے (رواں ادهن البيوت لبيت العنكبوت، عنكبوت) دوسری مثال لوہے کی ہے (وانزلنا الحديد فيه بأس شديد، الحديد) بيت العنكبوت معمولی جھٹکے کو بھی سہارا نہیں سکتا۔ مگر بیت الحدید کے مقابلہ میں بڑے بڑے طوفان بھی بے اثر ثابت ہوتے ہیں۔ اس طرح خدا نے دو عملی مثالوں کے ذریعہ بتایا کہ تم اپنے دین کا گھر مکڑی کے گھر کی طرح نہ بناؤ بلکہ لوہے کے گھر کی طرح بناؤ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page