Urdu book · احیاء اسلام

ضابطۂ فطرت

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

مضبوط اور یقینی تعمیر کے لئے خدا کا جو طریقہ ہے اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ خاموش تدبیر کے ذریعہ دشمن کو بے زور کر دیا جائے اور اس کی جگہ حق کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر دیا جائے۔ اس اصول کی وضاحت کے لئے یہاں دو آیتیں نقل کی جاتی ہیں : قد مكر الذين من قبلهم فاتی الله بنیانهم من ان سے پہلے والوں نے تدبیریں کیں۔ پھر اللہ ان کی القواعد فخر عليهم السقف من فوقهم و عمارت پر بنیادوں سے آگیا۔ پھر ان کی چھت اوپر سے اتاهم العذاب من حيث لا يشعرون ان پر گر پڑی اور ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے (النحل (٢٦) ان کو خیال بھی نہ تھا هو الذی اخرجہ الذین کفروا من اهل الکتاب وہ اللہ ہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے منکروں کو ان من ديارهم لاول الحشر ما ظننتم ان يخرجوا و کے گھروں سے نکال دیا اول حشر پر تمھارا گمان نہ تھا ظنوا انهم مانعتهم حصنهم من الله فاتاهم کہ وہ نکلیں گے اور وہ خیال کرتے تھے کہ ان کے قلعے ان الله من حيث لم يحتسبوا وقذف في قلوبهم الرعب کو اللہ سے بچانے والے ثابت ہوں گے۔ پھر اللہ ان پر يخربون بيوتهم بايديهم وايدى المومنين وہاں سے آگیا جہاں سے ان کو خیال نہ تھا۔ اس نے فاعتبروا يا اولی الابصار ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ وہ اپنے گھروں کو اپنے (الحشر (۲) ہاتھوں سے اجاڑنے لگے۔ اے آنکھ والوعبرت پکڑو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ خاموشی کے ساتھ دشمن کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا جائے۔ یہ عمل اپنی تہیں تک اس طرح جاری رہے کہ دشمن کو خبر نہ ہو اور اچانک ایک روز اس کی پوری چھت اس کے سامنے گرپڑے ۔ خدائی طریق کار کے بارے میں قرآن میں کچھ مثالیں دی گئی ہیں۔ تاہم یہ علامتی مثالیں ہیں۔ وہ اس لئے ہیں تاکہ ہم خدائی حکمت کو سمجھ جائیں اور دنیا میں اس طرح زندگی گزاریں کہ چاروں طرف بکھری ہوئی نشانیوں سے سبق لیتے رہیں۔ مثال کے طور پر دیمک کو دیکھئے ۔ دیمک انسان کا ایک دشمن کیڑا ہے۔ دیمک چیونٹی کی طرح چھوٹا ہونے کے علاوہ اتنا نازک ہوتا ہے کہ کھلی ہوا یا دھوپ میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مٹی کی نالی بنا کر چلتا ہے ۔ اس کمزوری کے باوجود دیمک ہمیشہ انسان کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہتا ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ دیمک اتنی خاموشی کے ساتھ اپنا عمل کرتا ہے کہ انسان کو صرف اس وقت اس کی خبر ہوتی ہے جبکہ وہ اپنا کام کر چکا ہو۔ آپ کے کمرہ کا دروازہ اگر لکڑی کا ہے تو اس کے بازوؤں میں نہایت خاموشی کے ساتھ دیمک داخل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page