ضابطۂ فطرت
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جائے گی۔ وہ اندھی اندر لکڑی کو کھانا شروع کرے گی۔ باز وؤں کے اوپر آپ نے جو خوبصورت پالش کر رکھی ہے اس کو کاغذ کی طرح چھوڑ دے گی۔ مزید یہ کہ وہ لکڑی کا جتنا حصہ کھاٹے گی اتناہی اس کے اندر مٹی بھرتی چلی جائے گی۔ اس طرح دیمک پوری لکڑی کھاڈالے گی اور آپ کو اس کی خبر نہ ہو سکے گی۔ کیونکہ وہ لکڑی کی اوپری پرت کو چھوڑ کر صرف اس کا اندرونی حصہ کھا رہی ہے۔ اس کے ساتھ وہ کھائے ہوئے حصے میں مٹی بھرتی جاتی ہے جس کی وجہ سے لکڑی پولی نہیں ہوتی اور بدستور کھٹری رہتی ہے۔ یہاں تک کہ دیمک جب پورے بازو کو کھا جاتی ہے تو ایک روز آپ کا دروازہ بے جان ہو کر گر پڑتا ہے۔ دوسری طرف اسی دنیا میں ایک اور مثال ہے۔ یہ کتے کی مثال ہے۔ کتا بھی انسان کو کاٹنا چاہتا ہے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ آدمی کو کاٹ پائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کتا آدمی کو دیکھ کر دور ہی سے بھونکنا شروع کرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی چوکنا ہو کر اپنے بچاؤ کا انتظام کر لیتا ہے۔ ۔ دیمک اپنے مقصد میں ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور کتا اپنے مقصد میں ہمیشہ ناکام رہتا ہے۔ ر کتے کے حصہ میں صرف بھونکنا آتا ہے اور دیمک کے حصہ میں اپنے منصوبہ کو آخری حد تک مکمل کرنا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ دیمک خاموش تدبیر کے ذریعہ اپنا کام کرتا ہے۔ اور کتا شور وغل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اس طرح خدا دو زندہ نمونوں کے ذریعہ دکھا رہا ہے کہ اس دنیا میں کامیابی کا طریقہ کیا ہے اور ناکامی کا طریقہ کیا۔ غیر عجلانہ طریقہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بے صبر اور جلد باز واقع ہوا ہے (بنی اسرائیل ۱۱) بلکہ جلد بازی ہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے (انبیاء ۳۷) صحیح طریقہ یہ بتایا گیا کہ اول العزمی کے ساتھ صبر و انتظار کا طریقہ اختیار کیا جائے، جلد نتیجہ دیکھنے کی خواہش نہ کی جائے (الاحقاف ۲۵) جلد بازی یہ ہے کہ کسی حاصل کو پانے کے لئے جو ابتدائی شرائط ضروری ہیں ان کی تکمیل کے بغیر قبل از وقت اس کو پانے کی کوشش کرنا۔ مثلاً چنار کا درخت اگر قدرتی طور پر سو سال میں مکمل ہوتا ہے تو آدمی یہ چاہے کہ وہ صرف چند سال میں مکمل درخت بن کر اس کے لئے کھڑا ہو جائے۔ اس قسم کی جلد بازی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ انسان کو یہ اختیار ضرور ملا ہوا ہے کہ وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کر کے اپنے وقت اور قوت کو ضائع کرتا رہے مگر خدا کے یہاں کسی واقعہ کے ظہور کے لئے جو فطری مدت مقرر ہے اس کو بدلنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ یہ ضابطہ اتنا محکم ہے کہ اس میں پیغمبر تک کا کوئی استثناء نہیں، کسی واقعہ کے ظہور کے لئے وقت کی جو حد ہے اور کسی مقصود تک پہنچنے کے لئے جو طریقہ مقرر ہے، اس کی خلاف ورزی لازمی طور پر نقصان کا سبب بنے گی ، خواہ یہ خلاف ورزی پیغمبر کی طرف سے ہوئی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader