Urdu book · احیاء اسلام

ضابطۂ فطرت

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلے میں ایک واضح مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے ساتھ جب صحرائے سینا میں پہنچے تو خدا نے ان کے لئے ایک ماہ کی مدت مقرر کی اور فرمایا کہ تم طور پہاڑ پر آکر ۳۰ دن ذکر اور عبادت میں گزارو۔ اس کے بعد ذی الحجہ کی دس تاریخ کو تمھیں شریعت دی جائے گی۔ اس اعتبار سے حضرت موسیٰ کو ۱۰ ذی قعدہ کو طور پر پہنچنا چاہئے تھا۔ مگر وہ دس دن پہلے یکم ذی قعدہ کو طور پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے موسیٰ، تم اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی کیوں چلے آئے۔ موسیٰ نے کہا کہ وہ لوگ میرے پیچھے ہیں اور میں جلدی اس لئے آگیا تاکہ تجھ سے سے راضی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم نے تمھاری قوم کو تمھارے پیچھے ایک فتنہ میں ڈال دیا اور سامری نے اس کو بہکا دیا (طہ ۸۵-۸۳) حضرت موسیٰ کو جلد طور پر پہنچنے کا شوق ہوا۔ وہ بنی اسرائیل کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اپنے بھائی ہارون کے سپرد کر کے وقت سے دس دن پہلے پہاڑ پر چلے گئے۔ حضرت موسیٰ کا یہ فعل تمام تر رضائے الہی کے جذبہ سے تھا۔ مگر وہ قوم کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوا۔ قوم کی قیادت ابھی تک حضرت موسیٰ کر رہے تھے، اس کے اجتماعی نظم پر حضرت ہارون کی گرفت ابھی مضبوط نہیں ہوئی تھی کہ حضرت موسیٰ قبل از وقت اس سے علیحدہ ہو کر پہاڑ پر چلے گئے۔ چنانچہ قوم کے مفسدین نے ابھر کر غلبہ پالیا اور قوم کو بچھڑے کی پرستش میں مبتلا کر دیا۔ یہ عجلت اگرچہ نبی کی طرف سے ظاہر ہوئی تھی اور خالص اللہ کی خوشنودی کے لئے تھی۔ مگر نہ تو اللہ نے ایسا کیا کہ وہ مقررہ تاریخ سے پہلے حضرت موسیٰ کو توراۃ کی تختیاں حوالے کر دے اور نہ ایسا ہوا کہ اخلاص اور نیک نیتی کی بنا پر وہ نتیجہ نہ نکلے جو اندر وئے حقیقت نکلنا مقدر تھا۔ تدریجی اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان کے لئے صلاح و فلاح کا جو نظام لے کر آئے تھے اس میں شراب کی حرمت بھی مطلوب کے درجہ میں شامل تھی۔ مگر آپ نے اپنی نبوت کے تقریباً نصف عرصہ تک اس معاملہ کا کوئی ذکر نہیں چھیڑا۔ عملاً لوگوں کو ان کے حال پر رہنے دیا، صرف توحید اور آخرت کی باتوں سے لوگوں کے دلوں کو نرم کرتے رہے ۔ شراب کے متعلق پہلا حکم آیا تو اس میں صرف ناپسندیدگی کا اظہار کر کے چھوڑ دیا گیا تاکہ ذہنوں کو اس کی حرمت قبول کرنے کے لئے تیار کیا جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا : لوگ تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان چیزوں میں بڑی خرابی ہے اور ان میں لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں (البقرہ ۲۱۹) اگر چہ اس وقت لوگوں کے ذہنوں میں شراب کا حکم جاننے کے لئے سوال پیدا ہونے لگا تھا، اس کے باوجود اس کی بابت واضح حکم لوگوں کو نہیں بتایا گیا۔ اس کے بعد سورہ میں شراب کے متعلق دوسرا حکم آیا۔ مگر اب بھی اس کی مکمل ممانعت نہیں کی گئی۔ ایک ایسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page