Urdu book · احیاء اسلام

ضابطۂ فطرت

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

بات کہی گئی جس سے شراب کا ناپاک ہونا واضح ہوتا تھا اور شراب نوشی کے اوقات پر اس کا اثر پڑتا تھا۔ یعنی یہ کہ نشہ کی حالت میں خدا کی عبادت کرنے کی ممانعت۔ حکم ہوا کہ اے ایمان والو، جب تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ، جب تک ایسا نہ ہو کہ جو کچھ تم نماز میں کہتے ہو اس کو سمجھنے لگو (النسا ر ۴۳) مذکورہ حکم کے کچھ مدت بعد شراب کی مکمل حرمت نازل ہوئی۔ قرآن میں ارشاد ہوا: اے ایمان والو، شراب اور جوا اور آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں۔ ان سے پرہیز کرو۔ امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے۔ شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ وہ تمھارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تم کو خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے (المائدہ ۹۱ - ۹۰) اب لوگوں کے ذہن تیار ہو چکے تھے۔ چنانچہ یہ آیت آتے ہی لوگ کہہ اٹھے: انتهينا ربنا انتهينا ربنا (اے ہمارے رب ہم باز آئے، اے ہمارے رب ہم باز آئے) اور شراب کے ذخیروں کو زمین پر بہا دیا۔ شراب کی حرمت کے متعلق جو حکمت تدریج اختیار کی گئی اس کے بارے میں حضرت عائشہ رض کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : انما نزل اول ما نزل سورة من المفصل فيها قرآن میں سب سے پہلے مفصل سورتیں اتریں جن میں جنت ذکر الجنة والنار حتى اذا ثاب الناس الى اور جہنم کا تذکرہ ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگوں کے دل الاسلام نزل الحلال والحرام۔ ولو نزل اسلام کے لئے ہموار ہو گئے تو حرام و حلال کی آیتیں اتریں۔ اول مانزل لا تشربوا الخمر لقالوا لاندع اگر پہلے ہی اترتا کہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب الخمر ابدا ولو نزل لا تزنوا لقالوا لاندع نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر پہلے ہی اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ الزنا ابدا (بخاری باب تالیف القرآن) کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے۔ استحکام کے بعد اقدام عرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ایک خاص مقصد یہ تھا کہ حرم کو ہر قسم کی مشرکانہ آلائشوں سے پاک کر کے اس کو دوبارہ خالص توحید کا مرکز بنا دیں۔ جیسا کہ وہ ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے زمانہ میں تھا۔ آپ کی بعثت کے وقت صورت حال یہ تھی کہ کعبہ کے اندر ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ مشرک لوگ اپنے بیہودہ عقائد کے تحت کعبہ کا ننگا طواف کرتے تھے۔ کبیسہ کا اصول اختیار کر کے انھوں نے حج کی ابراہیمی تاریخوں کو بدل دیا تھا۔ اپنی نبوت کے ابتدائی دور میں آپ تقریباً ۱۳ سال تک مکہ میں رہے مگر آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ کی گلیوں میں احتجاجی جلوس نکالیں یا موقع پا کر حرم کے بتوں کو توڑنا شروع کر دیں۔ آپ صرف نظریاتی طور پر توحید و آخرت کی دعوت دیتے رہے مگر بتوں کے خلاف کسی قسم کے عملی اقدام سے مطلق پر ہیز کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page