Urdu book · احیاء اسلام

ضابطۂ فطرت

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

روایات بتاتی ہیں کہ ۸ھ میں جب مکہ فتح ہوگیا اور عرب کا مرکزِ اقتدار آپ کے قبضہ میں آگیا اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ میں داخل ہوئے اور کعبہ کے گرد طواف کرنا شروع کیا۔ اس وقت کعبہ کے چاروں طرف ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ اس چھڑی سے ایک ایک بت کو ٹھوکر دے رہے تھے اور بت زمین پر گرتے جاتے تھے۔ اس طرح تمام بت اوندھے منہ زمین پر گر پڑے اور اس کے بعد انہیں توڑ کر پھینک دیا گیا، جب آپ ایسا کر رہے تھے اُس وقت آپ کی زبان پر یہ آیت تھی: جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا (بنی اسرائیل ۸) حرم کعبہ کو بتوں سے پاک کرنا اول دن سے مطلوب تھا۔ مگر اقتدار کے حصول سے پہلے آپ نے بتوں کو باطل نہیں چھیڑا۔ آپ صرف شرک کی تردید اور توحید کے اثبات پر اپنی ساری دعوتی مہم کو مرتکز کر کے چلاتے رہے۔ حرم کو عملاً بتوں سے صاف کرنے کی طرف اقدام آپ نے صرف اس وقت کیا جب کہ مکہ پوری طرح آپ کے زیر اقتدار آگیا اور وہاں آپ کی کسی کارروائی کے خلاف مزاحمت کرنے والا کوئی باقی نہ رہا۔ اقتدار کے باوجود حکمت کا لحاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو عرب میں یہ رواج تھا کہ لوگ ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کعبہ مقدس ترین جگہ ہے۔ اس لئے ہر قسم کی دنیوی آلائشوں، حتیٰ کہ کپڑے سے بھی پاک ہو کر اس کا طواف کرنا چاہئے۔ یہ ایک انتہائی بری رسم تھی اور یقینی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد نا پسند تھی۔ مگر آپ بعثت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے اور کبھی اس کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا۔ قیامِ مکہ کے آخری دنوں میں جب کہ آپ کے پیروؤں کی تعداد کئی سو ہو چکی تھی، آپ برہنہ طواف کو آشوب بنا کر اس کے خلاف جلوس نکال سکتے تھے۔ مگر آپ نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے مکمل پرہیز کیا۔ اس کے بعد تاریخ آگے بڑھی اور رمضان ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔ مکہ قدیم عرب میں ملک کی قیادت کا مرکز تھا۔ مکہ پر قبضہ ملنے کا مطلب یہ تھا کہ پورا عرب آپ کے قبضہ میں آگیا۔ مگر اب بھی آپ نے برہنہ طواف کے خلاف کوئی اقدام نہیں فرمایا۔ فتح مکہ کے چار ماہ کے بعد حج کا موسم آیا تو مشرکین حسب معمول حج کی ادائیگی کے لئے آئے اور پہلے کی طرح ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کیا۔ مگر ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی مسلمانوں نے اپنے مطابق حج کے مراسم ادا کئے اور مشرکین نے اپنے مطابق اس کے بعد اگلے سال (۹ھ) کا حج پڑا۔ یہ عرب میں اسلامی اقتدار قائم ہونے کے بعد دوسرا حج تھا۔ مگر اس سال بھی مشرکین کو برہنہ طواف سے نہیں روکا گیا۔ مسلمانوں نے حضرت ابو بکر کی قیادت میں اپنے طریقہ پر حج کیا اور مشرکین نے اپنے طریقہ پر۔ البتہ دوسرے سال یہ مزید کارروائی کی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page