Urdu book · احیاء اسلام

ضابطۂ فطرت

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

نے حضرت علی کو مکہ بھیجا اور ہدایت کی کہ حج کے اجتماع میں لوگوں کے درمیان یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک حج کے لئے نہ آئے اور نہ اب سے کوئی شخص ننگی حالت میں کعبہ کا طواف کرے (لا يحج بعد العام مشرک ولا يطوف بالبيت عريان) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فتح مکہ کے باوجود، سنہ ہ اور سنہ ۹ میں حج کے لئے نہیں گئے۔ آپ نے فرمایا کہ مشرکین آئیں گے اور ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کریں گے۔ مجھے پسند نہیں کہ میں حج کر دوں جب تک یہ چیزیں ختم نہ ہو جائیں (انما يحضن المشركون فيطوفون عراة فلا احب ان احج حتى لا يكون ذلك ، تفسیر ابن کثیر، سورة التوبہ) اقتدار حاصل ہو جانے کے باوجود آپ دو سال تک برہنہ طواف کو برداشت کرتے رہے اور خود حج کے لئے نہیں گئے۔ تیسرے سال (سنہ 10) میں آپ نے ننگے طواف کو بالکل بند کر دیا اور اسی سال مکہ جا کر حج ادا فرمایا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حج (حجة الوداع) تھا۔ تبدیلی فطری رفتار سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے کعبہ کی تعمیر کے بعد حج کا جو نظام قائم کیا تھا وہ قمری سال کی بنیاد پر تھا۔ اس بنا پر حج کی تاریخ مختلف موسموں میں آتی تھی۔ کبھی سردیوں میں اور کبھی گرمیوں میں۔ بعد کے زمانہ میں اہل مکہ نے دیکھا کہ اس فرق سے ان کی تجارتوں کو نقصان ہوتا ہے۔ حج کا موسم اہل مکہ کی خوش حالی کا اصل ذریعہ تھا۔ مگر قمری حساب کی بنا پر حج کا مختلف موسموں میں آنا اس راہ میں رکاوٹ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب میں کھجور کے پکنے کا زمانہ گرمی کا زمانہ تھا۔ قدیم عرب میں گرمی کا زمانہ ایسا ہی تھا جیسے رسمی ہندوستان میں چیت کا زمانہ۔ ان دنوں قبائل کے پاس پیسہ ہوتا تھا اور وہ سفر کرنے اور خریداری کرنے کی پوزیشن میں ہوتے تھے۔ چنانچہ گرمیوں کا حج تجارتی نقطہ نظر سے بہت کامیاب رہتا تھا اس کے برعکس جاڑوں کے حج بہت پھیکے ہوتے تھے۔ تجارتی چہل پہل ختم ہو جاتی تھی۔ اہل مکہ کے لئے ان کی دنیوی مصلحتیں دینی مصلحتوں کے اوپر غالب آگئیں۔ انھوں نے یہود و نصاریٰ سے نسی یا کبیسہ (Intercalation) کا طریقہ سیکھا اور حج کو ہمیشہ گرمی میں کرنے کے لئے قمری مہینوں کو ہٹا کر شمسی مہینوں کے مطابق کرنے کا اصول اختیار کر لیا۔ قمری سال کے مقابلہ میں شمسی سال تقریباً گیارہ دن زیادہ ہوتا ہے۔ قمری سال کو شمسی سال کے مطابق کرنے کے لئے اہل مکہ یہ کرتے تھے کہ قمری سال میں ہر سال کمی کے بقدر اضافہ کر دیتے تھے۔ اس تدبیر کے نتیجہ میں ایسا ہوتا تھا کہ ہر آٹھ سالوں میں تین مہینے بڑھ جاتے تھے۔ اس طرح ہر تیسرے سال کے خاتمہ پر ایک ماہ کبیسہ کا ہوتا تھا۔ قمری سال کو شمسی سال میں تبدیل کرنے کی یہ کارروائی حرام مہینوں میں (بشمول ذوالحجہ) کی جاتی تھی جس کے نتیجہ میں یہ ہوتا کہ مہینے ۳۲ سال کے لئے اپنی جگہ سے ہٹ جاتے تھے اور اسی طرح حج کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page