معرفت کی دو سطحیں
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کی دوستیں زمین و آسمان کا نظام انتہائی حیرت انگیز نظام ہے۔ سائنس داں اس پر غور کرتا ہے۔ مگر سائنسداں کائنات کے مطالعہ سے کیا پاتا ہے۔ سائنس داں کے لئے کائنات بس حسابات اور اعداد و شمار کی ایک چیز ہوتی ہے زمین کا قطر ۲۵ ہزار میل ہے۔ سورج زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ زمین سے سورج کا فاصلہ ۹ کروڑ ۳۰ لاکھ میل ہے۔ زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہے، وغیرہ ۔ سائنس داں کو کائنات کے مطالعہ سے بس اس قسم کی کچھ شماریاتی تفصیلات حاصل ہوتی ہیں ۔ مگر اسی کائنات کو جب ایک مومن دیکھتا ہے تو وہ اس کے لئے حقیقت اعلیٰ سے ملاقات کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں، جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی بناوٹ پر غور کرتے ہیں، وہ پکارا اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔ ہیں ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب، تو نے جسے آگ میں ڈالا اس کو تو نے بڑی رسوائی میں ڈال دیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ، اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکارتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، پس تو ہمارے گناہ ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ اے ہمارے رب، تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال ۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے ـــ (آل عمران رکوع آخر) سائنس داں نے بھی کائنات کو دیکھا اور مومن نے بھی اسی کائنات کو دیکھا۔ مگر سائنس داں کائنات کو سائنسی نظر سے دیکھتا ہے اور مومن کائنات کو ایمانی نظر سے۔ نظر کا یہ فرق دونوں کے مشاہدہ کے حاصل میں غیر معمولی فرق پیدا کر دیتا ہے۔ سائنسی نظر سے کائنات کو دیکھنے والے کو صرف شماریات کی قسم کی کچھ ظاہری چیزیں ملی تھیں۔ مگر جس نے کائنات کو ایمانی نظر سے دیکھا اس کے لئے کائنات خدائی جلووں کا معنوی خزانہ بن گئی۔ اس کو یہاں ایک خدائی اسکیم نظر آئی۔ اس نے کائنات کے پردے میں جنت اور جہنم کو دیکھ لیا۔ اس میں اس کو اعتراف حق کی غذائیں ملنے لگیں۔ اس میں اس نے کائنات کے بامقصد ہونے کا راز دریافت کر لیا۔ وہ اس کے ذریعہ سے خالق کے عین قریب پہنچ گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader