ضابطۂ فطرت
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
موسم بھی۔ ۳۳ سال کی گردش کے بعد پھر یہ مہینے کے لئے اپنی اصل جگہ پر واپس آتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری تھی کہ حج کے معاملہ میں اس جاہلانہ رسم کو بدلیں اور حج کی تاریخوں کو ابراہیمی سنت کے مطابق قمری ماہ (ذی الحجہ) میں مقرر کریں۔ رمضان شاہ میں مکہ فتح ہوا تو آپ اس حیثیت میں ہو گئے کہ سابقہ رسم کے فوری طور پر ختم کئے جانے کا اعلان کر دیں۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ جاہلی رسم کے مطابق شستہ اور رشتہ کا حج ذی قعدہ میں پڑ رہا تھا۔ اور سنتہ کا حج (۳۳ سال پورے کر کے) ذی الحجہ میں ۔ اگر آپ چاہتے تو فتح مکہ کے بعد فوراً اعلان کر دیتے کہ اس سال آنے والا حج ابراہیمی سنت کے مطابق (ذی قعدہ کے بجائے) ذی الحجہ میں ادا کیا جائے گا۔ مگر آپ نے عجلت سے کام نہیں لیا۔ بلکہ دو سال انتظار فرمایا۔ اقتدار حاصل ہونے کے باوجو د آپ نے اس کو برداشت کیا کہ دو سال تک حج کی ادائیگی ذیقعدہ کے مہینہ میں ہو۔ اور تیسرے سال جب خود فطری رفتار کے مطابق حج کا موسم ذی الحجہ میں آجائے اس وقت اعلان کر دیں کہ اب آئندہ حج کی ادائیگی اسی طرح ہو گی جس طرح اس سال ہو رہی ہے ۔ یہی بات ہے جو آپ نے حجتہ الوداع کے خطبہ (۱۰ھ) میں ان لفظوں میں فرمائی تھی: ان الزمان قد استدار كهيأتة يوم خلق زمانہ گردش کرتا ہوا اپنی اس حالت پر آ گیا ہے جو زمین الله السماوات والارض (تفسیر ابن کثیر) و آسمان کی تخلیق کے اعتبار سے اس کی اصل حالت ہے روایات توڑے بغیر اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ وہ ہے جس کو غزوہ مریسیع یا بنی المصطلق (۲ھ) کہا جاتا ہے۔ آپ کو خبر ملی کہ قبیلہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار نے فوج جمع کی ہے اور مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ آپ نے بریدہ بن حصیب اسلمی کو خبر لینے کے لئے بھیجا۔ انھوں نے واپس آکر تصدیق کی کہ خبر صحیح ہے۔ آپ نے بھی اپنی فوج تیار کی اور تیزی سے چل کر اچانک ان کے اوپر حملہ کر دیا۔ وہ لوگ مقابلہ نہ کر سکے ۔ ان کے دس آدمی قتل ہوئے اور تمام مرد و عورت بوڑھے بچے گرفتار کرنے گئے ۔ مال غنیمت میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں ہاتھ آئیں ۔ جو لوگ گرفتار ہوئے وہ کل دوسو گھرانے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کر کے انھیں اسلام کی طرف مائل کریں۔ مگر روایت کو توڑ کر آپ نے ایسا کرنا پسند نہیں فرمایا ۔ اس زمانہ کی روایت کے مطابق یہ تمام قیدی فوج کے افراد کی ملکیت تھے۔ اگر آپ ان کی آزادی کا اعلان کرتے تو اس روایت کو توڑنا پڑتا ۔ آپ نے اس کی نہایت خاموش تدبیر اختیار فرمائی ۔ قبیلہ کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیوہ لڑکی جویریہ بھی گرفتار شدگان میں تھی ۔ تقسیم غنیمت کے وقت وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader