Urdu book · احیاء اسلام

ضابطۂ فطرت

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

ثابت بن قیس انصاری کے حصہ میں آئیں۔ ر۔ ثابت بن قیس نے ان سے مکاتبہ کا معاملہ کرنا چاہا۔ یعنی اگر وہ اتنی رقم ادا کر دیں تو وہ آزاد ہیں۔ جو یہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے بطور امداد اتنی رقم چاہی جس کو دے کر وہ آزاد ہو سکیں۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز بتاؤں۔ وہ یہ کہ میں تمھاری طرف سے کتابت کی رقم ادا کر دوں اور تم کو آزاد کر کے اپنی زوجیت میں لے لوں۔ وہ راضی ہوگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ یہ کو آزاد کر کے انھیں اپنی زوجیت میں لے لیا۔ جو یہ یہ چونکہ قبیلہ کے سردار کی لڑکی تھیں اس لئے قبائلی رواج کے مطابق اب آپ پورے قبیلہ کے داماد ہوگئے۔ مہاجرین وانصار کو جب یہ معلوم ہوا کہ انھوں نے جن لوگوں کو قیدی بنایا ہے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامادیکا رشتہ ہے تو ایسے لوگوں کو قید رکھنا انھیں شاق معلوم ہوا۔ انھوں نے تمام قیدیوں کو اپنی طرف سے رہا کر دیا۔ ان قیدیوں کے دل اپنے "داماد" اور اس کے دین کے بارے میں پہلے ہی نرم ہو چکے تھے۔ جنگ میں شکست کے بعد آزاد کر دیا جانا ان کو غیر معمولی طور پر متاثر کرنے کا ذریعہ بن گیا کیونکہ یہ ایسا سلوک تھا جس کا قدیم قبائلی دور میں تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اس کے جلد ہی بعد پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔ اسی بنا پر حضرت عائشہ نے جو یہ یہ کے بارے میں کہا: مجھے کوئی ایسی عورت نہیں معلوم جو جو یہ یہ سے زیادہ اپنی قوم کے لئے بابرکت ثابت ہوئی ہو وما اعلم امرأة كانت اعظم علی قومھا بركة منھا، سيرة ابن هشام) موجودہ زمانہ کی تحریکیں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے احیار اسلام کے لئے بے شمار تحریکیں اٹھائیں۔ ان تحریکوں کو غیر معمولی مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ مگر اصل مقصود کو حاصل کرنے میں تمام تحریکیں ناکام رہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان تحریکوں نے فطرت کے ضابطہ کو اختیار نہیں کیا۔ انھوں نے اس طریق کار کو نہیں اپنایا جو خدا نے ان کے لئے مقرر کیا تھا اور جس کا عملی نمونہ قائم کر کے انھیں دکھا دیا تھا۔ ان تحریکوں نے خاموش تدبیر کے بجائے شور وغل کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے فطری رفتار سے چلنے کے بجائے عاجلانہ اقدام کر کے منزل تک پہنچنا چاہا۔ انھوں نے تدریج کے بجائے چھلانگ کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ اپنی پوزیشن کو مستحکم کئے بغیر بڑی بڑی کارروائیاں کرنے لگے۔ انھوں نے حکمت کے بجائے شوق اور جذبات کو اپنا رہنما بنایا۔ انھوں نے بنیاد کا کام کئے بغیر اپنی آرزوؤں کا محل کھڑا کرنا شروع کر دیا۔ تھوڑے سے زیادہ کی طرف بڑھنے کے بجائے انھوں نے چاہا کہ پہلے ہی دن انھیں زیادہ حاصل ہو جائے۔ اس طریقہ کا لازمی نتیجہ ناکامی تھا اور وہی ان کے حصہ میں آیا۔ خدا کی دنیا میں خدا کے مقررہ ضابطہ پر چل کر ہی کامیابی ہو سکتی ہے۔ کسی اور طریقہ کو اختیار کرنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page