Urdu book · احیاء اسلام

معرفت کی دو سطحیں

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ معرفت کی دو سطحیں ہیں۔ ایک ظاہری سطح اور دوسری باطنی اور رہبری سطح۔ یہی بات ہر چیز کے بارے میں ہے اور یہی بات قرآن کے بارے میں بھی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن سات حروف پر اترا ہے۔ اس کی ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ اور ہر حد کے لئے ایک مطلع ہے (عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انما انزل القرآن علی سبعة احرف لکل آیة منها ظهر وبطن و لكل حبد مطلع ، شرح السنة) مطلع عربی زبان میں جھانکنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ اگر آپ عام جگہ پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو آپ کو صرف قریب کی چیزیں دکھائی دیں گی۔ اور اگر آپ زیادہ بلندی پر کھڑے ہوں تو بہت دور تک کی چیزیں آپ کو نظر آنے لگیں گی۔ اسی طرح قرآن سے استفادہ کے بھی دو مطلع (مقام مشاہدہ) ہیں۔ اس اعتبار سے قرآن کو سمجھنے کی دو سطحیں بن جاتی ہیں۔ قرآن کا ایک ظاہری مفہوم ہے جو سادہ طور پر اس کو پڑھنے سے سمجھ میں آتا ہے۔ اس کے ساتھ قرآن کا ایک گہرا مفہوم ہے جو غور وفکر کے ذریعہ واضح ہوتا ہے۔ ظاہری مطلع سے قرآن کو سمجھنا یہ ہے کہ آپ اس کے ظاہری الفاظ پر ٹھہر جائیں۔ الفاظ قرآن سے بظاہر جو مفہوم نکل رہا ہے اس سے آگے جانے کی کوشش نہ کریں۔ باطنی مطلع سے قرآن کو سمجھنا یہ ہے کہ آپ الفاظ کے گہرے معانی تک پہنچنے کی کوشش کریں، سطروں کے ساتھ بین السطور میں چھپے ہوئے معانی پر بھی غور کریں۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے یہاں ہم دو مثالیں نقل کریں گے۔ ا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو۔ اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔ اس میں اس کے لئے ہر قسم کے پھل ہوں۔ پھر وہ بوڑھا ہو جائے اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں۔ اس وقت باغ پر تیز گرم بگولا آئے اور باغ جھلس جائے۔ اللہ اس طرح اپنی نشانیاں تمھارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو (بقرہ ۲۶۶) خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک روز اپنی مجلس میں یہ آیت پڑھی اور کہا کہ اس آیت نے آج کی رات مجھے سونے نہیں دیا۔ پھر آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ تمھاراکیا خیال ہے کہ کس کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ کی مثال دی گئی ہے اور یہ یاد دلایا گیا ہے کہ یہ چیزیں خدا کی نعمتیں ہیں۔ خدا جب چاہے ان کو دے اور جب چاہے گرم ہوائیں بھیج کر انھیں جلا دے، گویا ان لوگوں کے نزدیک اس آیت کا مطلب بس وہی تھا جو بظاہر اس کے الفاظ سے نکل رہا تھا۔ آخر میں عبداللہ بن عباس رم بولے جو اس وقت نوجوان تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں انسانی عمل کی تمثیل ہے، حضرت عمر نے پوچھا کہ کون سا عمل۔ انھوں نے کہا: یہ ایسے آدمی کی مثال ہے جو مال دار ہے۔ وہ اللہ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page