تعلیم و تربیت
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیم و تربیت عائشہ صدیقہ کے حالات میں بتایا گیا ہے کہ وہ علمی اعتبار سے صحابہ کے درمیان ایک ممتاز حیثیت رکھتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مسلم خواتین میں سب سے بڑی فقیہ تھیں اور دین و ادب میں وہ اُن سب سے زیادہ علم رکھتی تھیں : أَفْقَهُ نِسَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْلَمُهُنَّ بِالدِّيْنِ وَالْأَدَبِ ( الاعلام، للزرکلی، جلد 3 صفحہ 240)۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : كَانَتْ عَائِشَةُ، أَفْقَهَ النَّاسِ وَأَعْلَمَ النَّاسِ وَأَحْسَنَ النَّاسِ رَأْيًا فِي الْعَامَّةِ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 6748) ۔ یعنی، عائشہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ، سب سے زیادہ صاحب علم اور عوام میں سب سے اچھی رائے والی خاتون تھیں ۔ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں : مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3883)۔ یعنی، اصحاب رسول کو جب بھی کسی مسئلہ میں کوئی اشکال ہوتا تو ہم عائشہ رضی اللہ عنہا سے اُس کی بابت پوچھتے اور اُن کے پاس ہم اُس کے بارے میں کوئی علم پالیتے۔ عائشہ صدیقہ کے علم کے بارے میں اس طرح کی باتیں حدیث وسیرت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader