حضرت عائشہ کا مقام
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑھ کر کسی صحابی نے ہجرت کے واقعات کا مسلسل بیان محفوظ نہیں رکھا ہے۔ عائشہ صدیقہ کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 3433 )۔ یعنی، عائشہ کی فضیلت دوسری تمام عورتوں پر ویسی ہی ہے جیسے کہ ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر۔ پیغمبر اسلام کا پہلا نکاح مکہ میں خدیجہ بنت خویلد سے ہوا جب کہ آپ کی عمر 25 سال تھی۔ ہجرت سے تین سال پہلے خدیجہ کی وفات ہو گئی۔ اُس کے بعد آپ کا دوسرا نکاح عائشہ بنت ابی بکر سے ہوا۔ اس نکاح میں پیغام رسانی کا کام خولہ بنت حکیم نے کیا تھا۔ حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ کا نکاح پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں ہوا۔ اُس وقت عائشہ صدیقہ کی عمر 6 سال تھی۔ آپ کی رخصتی ہجرت کے بعد مدینہ میں ہوئی۔ اُس وقت آپ کی عمر نو سال ہو چکی تھی (مسند احمد، حدیث نمبر 24867 )۔ عائشہ صدیقہ کا نکاح خود اُن کے والد ابوبکر صدیق نے پڑھایا (مستدرک الحاكم، حدیث نمبر 2704 )۔ روایات کے مطابق، آپ کی مہر پانچ سو درہم تھی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1426 )۔ قدیم زمانہ میں عرب میں تعلیم کا رواج نہ تھا۔ بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اس قلیل تعداد میں ایک نام ابوبکر صدیق کا تھا۔ اس خاندانی روایت کی بنا پر عائشہ صدیقہ کو بھی یہ موقع ملا کہ وہ لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیں۔ چنانچہ وہ قرآن کو دیکھ کر پڑھتی تھیں۔ بعض روایات کے مطابق، ان کو لکھنا بھی آتا تھا۔ چنانچہ وہ خط کا جواب تحریری شکل میں دے سکتی تھیں۔ (عورت معمارِ انسانیت)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader