Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

تعلیم و تربیت

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

کتابوں میں آتی ہیں۔ اُن سے ایک اہم مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ اسلام میں خواتین کی تعلیم کی اہمیت کا مسئلہ ہے۔ عائشہ صدیقہ کو یہ علم پیدائشی طور پر نہیں ملا تھا اور نہ مل سکتا تھا۔ یقینی طور پر اُن کو یہ علم اُس وقت اسلامی معاشرہ میں حاصل ہوا۔ عائشہ صدیقہ کے والد ابو بکر صدیق قدیم عرب کے اُن ڈیڑھ درجن افراد میں شمار کیے جاتے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ چنانچہ عائشہ صدیقہ کا پہلا تعلیمی ادارہ خود ان کا گھر بنا۔ اپنے والد سے انہوں نے حکیمانہ اشعار اور عرب خطبا کے کلام کو سنا اور ان کو حفظ کر لیا۔ اسی طرح انہوں نے اپنے والد سے علم الانساب سیکھا جو گو یا عرب تاریخ کا علم حاصل کرنے کے ہم معنی تھا۔ نکاح کے بعد جب وہ پیغمبر اسلام صلی الہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئیں تو اُن کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر اسلام جیسے معلم سے علم حاصل کریں۔ چنانچہ یہ سلسلہ ہر دن کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتا تھا۔ اس حلقۂ درس کی مثالیں کثرت سے حدیث کی کتابوں میں ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ عائشہ صدیقہ کی رہائش گاہ جو ایک حجرہ پر مشتمل تھی وہ قدیم مسجد نبوی سے بالکل متصل واقع تھی۔ پیغمبر اسلام کی تعلیمی مجلسیں جو ہر روز مسجد میں جاری رہتی تھیں وہ اپنے حجرہ میں رہتے ہوئے ان کو سنا کرتی تھیں۔ دینی علوم کی تعلیم کا کوئی وقت مخصوص نہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی الہ علیہ وسلم کی صحبت شب و روز اُن کو حاصل تھی۔ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کی تعلیم کے حلقے روزانہ مسجد نبوی میں منعقد ہوتے تھے۔ عائشہ صدیقہ کا حجرہ اس سے بالکل قریب تھا۔ اس بنا پر آپ گھر سے باہر بھی لوگوں کو جو درس دیتے تھے، وہ اس میں شریک رہتی تھیں۔ اگر کبھی دوری کی وجہ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page