Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

تعلیم و تربیت

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حجرہ میں آتے تو وہ اس کو دریافت کر لیتیں۔ کبھی اٹھ کر مسجد کے قریب چلی جاتیں۔ اس کے علاوہ آپ نے عورتوں کی درخواست پر ہفتہ میں ایک خاص دن ان کی تعلیم و تلقین کے لیے متعین فرما دیا تھا۔ اس طرح کے حوالے جو عائشہ صدیقہ کی نسبت سے حدیث وسیر کی کتابوں میں آئے ہیں، وہ صرف خاتونِ اوّل کی سیرت کو نہیں بتاتے بلکہ خود اسلامی معاشرہ کی ایک خصوصیت کو بتاتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ نہ صرف مردوں کے لیے بلکہ عورتوں کے لیے بھی ایک وسیع تر تعلیم گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس معاشرہ میں خواتین کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ان کو اپنے علمی شوق کی تکمیل کے مواقع دیے جاتے ہیں۔ حتّیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک خاتون اپنی محنت کے ذریعہ علم میں مردوں سے بھی آگے بڑھ جائے، جیسا کہ عائشہ صدیقہ کے ساتھ پیش آیا۔ تعلیم و تربیت کے معاملہ میں عائشہ صدیقہ کی حیثیت ایک منفرد یا استثنائی شخصیت کی نہیں ہے، بلکہ وہ اس معاملہ میں ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ علم کے میدان میں ان کی سبقت مسلم خواتین کے لیے ایک رہنما مثال ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست دینی تربیت حاصل کرنے کا موقع جتنا زیادہ عائشہ صدیقہ کو ملا، شاید کسی مرد یا عورت کو نہیں ملا۔ مزید یہ کہ عائشہ صدیقہ اس وقت اپنی ابتدائی عمر میں تھیں۔ اس لیے وہ اُس ذہنی مسئلہ سے مکمل طور پر محفوظ تھیں جس کو نفسیات کی اصطلاح میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ عمر کے لحاظ سے وہ اس پوزیشن میں تھیں کہ وہ ہر بات کو بے آمیز ذہن سے سنیں اور وہ فوراً اُن کے ذہن کا جزءِ بن جائے۔ اسی کے ساتھ عائشہ نہایت ذہین اور اخّا طبیعت کی مالک تھیں۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page