عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے وہ پیغمبر اسلام کی ہر بات کو اُس کی پوری گہرائی کے ساتھ سمجھ لیتیں۔ پیغمبر اگرچہ ہمیشہ جوامع الکلم (concise and comprehensive speech) کی زبان میں گفتگو فرماتے تھے، مگر وہ اپنی غیر معمولی قوت استنباط (exceptional power of inference) کی بنا پر اُس کو اُس کے تمام تفصیلی پہلوؤں کے ساتھ سمجھ لیتی تھیں اور اس کو اپنے حافظہ میں محفوظ رکھتی تھیں۔ عائشہ صدیقہ کو پیغمبر اسلام ﷺ سے استفادہ کا جو خصوصی موقع ملا اُسی کا نتیجہ تھا کہ وہ دین کی فہم وبصیرت میں اتنی ممتاز بن گئیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بڑے بڑے صحابہ اُن سے رجوع کرتے اور اُن کے ذریعہ حکمتِ نبوت کی تعلیم حاصل کرتے۔ (عورت معمارِ انسانیت) شخصیت کی تعمیر عائشہ صدیقہ اسلام کی تاریخ میں ایک استثنائی شخصیت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ شخصیت کیسے بنی اس کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ عائشہ صدیقہ قرآن کا مسلسل مطالعہ کرتی رہتی تھیں ۔ اُن کی زندگی کا کوئی اور مقصد نہ تھا۔ مزید یہ کہ اُن کے لیے حصول علم کا سب سے بڑا ذریعہ براہِ راست پیغمبر اسلام سے استفادہ تھا۔ اس استفادہ کا سلسلہ مختلف صورتوں میں برابر جاری رہتا تھا، دن کے اوقات کے علاوہ رات کے لمحات میں بھی۔ اس معاملہ کی ایک مثال اس روایت میں ملتی ہے جس میں عائشہ صدیقہ خود بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعت نماز پڑھتے۔ اُس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader