Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

شخصیت کی تعمیر

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

وقت اگر میں بیدار ہوتی تو وہ مجھ سے بات کرتے ورنہ آپ لیٹ جاتے: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلَّا اضْطَجَعَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 743)۔ اس روایت میں عائشہ صدیقہ نے حدثنی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے حدیث بیان کرتے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے گفتگو کرتے تھے۔ یہ گفتگو یقینی طور پر دینی اور علمی موضوعات پر ہوتی تھی، عائشہ صدیقہ خود بھی اس کی ایک حصہ دار ہوتی تھیں۔ گویا یہ ایک قسم کا فکری تبادلہ (intellectual exchange) ہوتا تھا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ عائشہ صدیقہ کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل (process) مسلسل طور پر جاری رہے۔ یہاں تک کہ ان کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا ہو جائے جس کے تحت وہ اسلام کی تاریخ میں اُس رول کو ادا کر سکیں جو انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نصف صدی تک ادا کیا۔ رات کی تنہائی کے اس قیمتی وقت کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح استعمال فرماتے کہ آپ عائشہ صدیقہ کی فکری اور روحانی تربیت کرتے۔ یعنی وہی چیز جس کو قرآن میں تزکیہ اور تعلیم حکمت بتایا گیا ہے۔ اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے یہاں حدیث اور سیرت کی کتابوں سے کچھ مزید حوالے نقل کیے جاتے ہیں۔ ان سے اندازہ ہوگا کہ زمانہ نبوت میں عائشہ صدیقہ کی شخصیت کی کس طرح تعمیر ہوئی۔ عائشہ صدیقہ کا تبادلہ خیال پیغمبر اسلام سے کس طرح ہوتا تھا، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page