Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

شخصیت کی تعمیر

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

(جس کا حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا ہوا)۔ عائشہ صدیقہ نے اس سلسلہ میں سوال کیا کہ اے خدا کے رسول، خدا نے قرآن میں اس کے بجائے یہ فرمایا ہے کہ : فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا (84:8)۔ یعنی آپ مطلق طور پر فرما رہے ہیں کہ حساب کے بعد آدمی بچ نہیں سکتا۔ حالاں کہ قرآن کے بیان کے مطابق، حساب کے بعد بھی آدمی عذاب سے بچ سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعمال میں پیشی کی بات ہے۔ لیکن جس کے اعمال میں جرح و قدح شروع ہوئی تو وہ ہلاک ہوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 103)۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام سے استفادہ میں عائشہ کی حیثیت محض سامع کی نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ وہی چیز تھی جس کو تبادلۂ خیال کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح عائشہ صدیقہ نے ایک موقع پر پیغمبر اسلام سے یہ سوال کیا کہ مشرکین نے اگر کوئی نیک کام کیا ہے تو اس کی جزا اُن کو ملے گی یا نہیں۔ اس سلسلہ میں عائشہ صدیقہ نے عبد اللہ بن جدعان کی مثال دی۔ وہ مشرک تھا اور شرک کی حالت ہی میں اُس کا انتقال ہوا۔ مگر وہ ایک اعلیٰ اخلاق کا آدمی تھا۔ وہ لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ عائشہ صدیقہ نے سوال کیا کہ کیا عبد اللہ بن جدعان کا یہ اخلاقی عمل اُس کو آخرت میں فائدہ دے گا۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ نہیں۔ کیوں کہ اُس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 214)۔ یعنی، اے میرے رب، جزا کے دن تو میرے گناہوں کو معاف فرما۔ اس سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار یہ فیصلہ فرمایا کہ وہ ایک ماہ تک اپنی ازواج سے الگ رہیں گے۔ اس کو تاریخ میں ایلاء کا واقعہ کہا جاتا ہے۔ یہ اعلان کر کے آپ ایک قریبی مکان چھت کے کمرہ میں چلے گئے۔ ایلاء کا یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page