شخصیت کی تعمیر
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملہ ہجری مہینہ کی یکم تاریخ کو شروع ہوا۔ 29 دن پورا ہونے کے بعد آپ ﷺ بالاخانہ سے اترے۔ جب آپ عائشہ صدیقہ کے حجرہ میں آئے تو انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ نے تو ایک مہینہ تک الگ رہنے کو کہا تھا اور ابھی مہینہ کے تیس دن پورا ہونے میں ایک روز باقی ہے (يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا)۔ آپ نے فرمایا کہ مہینہ 29 دن کا بھی ہوتا ہے اور جبریل نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ آج چاند ہو گیا (صحيح البخاري، حديث نمبر 2468؛ سنن النسائی، حدیث 2133)۔ عائشہ صدیقہ کے مذکورہ سوال وجواب سے ایک مزید دینی مسئلہ معلوم ہوتا ہے جس کا تعلق رویتِ ہلال سے ہے۔ اس سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ نئے چاند کے معاملہ میں اگر عینی مشاہدہ نہ ہوا ہو، تاہم قابلِ اعتماد خبر سے 29 تاریخ کو معلوم ہو جائے کہ چاند ہو گیا ہے تو اُس کو تسلیم کر لیا جائے گا اور اُس کی بنیاد پر عبادت کا نظام قائم کیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں بالواسطہ رویت کی اہمیت بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ براہِ راست روایت کی اہمیت۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت چاہی۔ آپ نے فرمایا۔ آنے دو، وہ اپنے خاندان میں برا ہے (بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ)۔ جب وہ آکر بیٹھا تو آپ نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی۔ عائشہ صدیقہ کو تعجب ہوا۔ جب وہ چلا گیا تو عائشہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، آپ تو اس کو اچھا نہیں جانتے تھے، لیکن جب وہ آیا تو آپ نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ، سب سے بُرا آدمی وہ ہے جس کی بداخلاقی سے ڈر کر لوگ اُس سے ملنا چھوڑ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader