Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

شخصیت کی تعمیر

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

دیں: اِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اِتِّقَاءَ شَرِّهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6032)۔ ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ اعتدال کے ساتھ کام کرو۔ لوگوں کو اپنے نزدیک کرو اور خوش خبری سناؤ کہ لوگوں کا عمل اُن کو جنت میں نہ لے جائے گا۔ عائشہ صدیقہ کو یہ آخری بات عجیب معلوم ہوئی۔ وہ سمجھیں کہ جو لوگ معصوم ہیں وہ تو اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا آپ کو بھی نہیں۔ فرمایا کہ نہیں ، لیکن یہ کہ خدا اپنی مغفرت اور رحمت سے مجھے ڈھانک لے : وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6467)۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند یہودی آئے۔ انہوں نے السلام علیک (تم پر سلامتی ہو) کے بجائے زبان دبا کر السّامُ عَلَيْكَ (تم کو موت آئے) کہا۔ عائشہ سُن رہی تھیں۔ وہ ضبط نہ کر سکیں اور بولیں : عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ (تم پر موت اور لعنت)۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ تم کو نرمی اختیار کرنا چاہیے۔ خدا ہر بات میں نرمی پسند کرتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6395)۔ ایک روایت کے مطابق، عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ ایک مجلس میں صفیہ (زوجہ رسول) کا ذکر ہوا۔ صفیہ کسی قدر پستہ قد تھیں۔ عائشہ صدیقہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صفیہ تو بس اتنی ہیں (یعنی وہ پستہ قد ہیں)۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم نے ایسی بات کہی کہ اگر وہ سمندر میں ڈال دی جائے تو سمندر کا پانی بھی آلودہ ہو جائے: لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4875)۔ اسی طرح کی ایک اور روایت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے جس میں پیغمبرِ اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page